اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا چھٹی عالمی اسپیکرز کانفرنس کے مرکزی اجلاس سے خطاب
اسلام آباد، 30 جولائی 2025؛ سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان سردار ایاز صادق نے جنیوا میں جاری چھٹی عالمی اسپیکرز کانفرنس کے مرکزی سیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے عالمی پارلیمانی قیادت کے اس تاریخی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، انصاف اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ “میں جنیوا کے اس خوبصورت شہر میں تمام براعظموں سے تعلق رکھنے والے قومی مقننہ کے پریزائیڈنگ افسران سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی فخر محسوس کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ جنیوا عالمی سفارتکاری اور کثیر الجہتی تعاون کیلئے ایک مثالی مقام رکھتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کانفرنس کے موضوع “ہنگامہ خیز دنیا میں امن، انصاف اور خوشحالی کے لیے پارلیمانی اور کثیرالجہتی تعاون” کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ اور لیگ آف نیشنز کی تاریخ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ عالمی تعاون اور اصولوں پر مبنی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا آج کئی باہم مربوط بحرانوں کا شکار ہے، جو عالمی امن، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری اور ابھرتے ہوئے تنازعات انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج لا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کو پولرائزیشن، انتہا پسندی، قوم پرستی اور یکطرفہ ازم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی اہداف کے باوجود 100 سے زائد ترقی پذیر ممالک قرضوں، لیکویڈیٹی بحران اور عالمی مالیاتی ڈھانچے کی ساختی خامیوں کا شکار ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف مضبوط کثیرالجہتی اور عالمی تعاون کے ذریعے ہی پائیدار امن ممکن ہے۔ یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے بجائے، امن کا قیام مکالمے، باہمی احترام، سفارتکاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی قیادت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2788 منظور کی، جس کا مقصد تنازعات کے پرامن حل کے لیے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے۔ اس قرارداد میں گفت و شنید، تحقیقات، ثالثی، مصالحت اور عدالتی تصفیے کے طریقوں کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے فلسطین اور جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوہرے معیارات کے خاتمے اور انسانی اصولوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام کو موجودہ عالمی چیلنجز کے مطابق فعال بنانے کے لیے اس کے بنیادی اداروں، بشمول سلامتی کونسل، میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ علاوہ ازیں عالمی مالیاتی نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غربت اور عدم مساوات جیسے مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “بطور پارلیمنٹرین، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان چیلنجز کا سامنا اخلاقی اور سیاسی جرات کے ساتھ کریں۔” انہوں نے پریزائیڈنگ افسران پر زور دیا کہ وہ انصاف، قانون کی بالادستی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔
Comments are closed.