تربت کے سرحدی علاقے ردیگ مند میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے فعال آغاز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

24

تربت30 جولائی :۔ تربت کے سرحدی علاقے ردیگ مند میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے فعال آغاز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایرانی حکام کے علاوہ بلوچستان کے صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکریٹریز، ڈویژنل و ضلعی افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں مارکیٹ کے باقاعدہ افتتاح، شیڈول اور انتظامی ا±مور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اتفاق کیا گیا کہ مارکیٹ آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار کھولی جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ مارکیٹ ہفتے میں تین دن (پیر، منگل، بدھ) فعال ہوگی، جبکہ ایک ماہ بعد اسے پانچ دن تک وسعت دی جائے گی ایرانی وفد کی قیادت ڈپٹی گورنر ایران مجیب حسنی نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید، پارلیمانی سیکریٹریز میر اصغر رند اور حاجی برکت رند، سیکرٹری انڈسٹریز محمد خالد سرپرہ، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ اور دیگر افسران شامل تھے۔صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ردیگ مند بارڈر مارکیٹ بلوچستان کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو مقامی سطح پر روزگار، تجارت اور استحکام لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور شفاف تجارت کو فروغ دے گا پارلیمانی سیکریٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور یہ مارکیٹ اسی وڑن کا عملی مظہر ہے۔ مشیر برائے کھیل مینا مجید نے کہا کہ خواتین اور نوجوان اس مارکیٹ سے بھرپور استفادہ کریں گے، جبکہ قانونی تجارت کے فروغ سے اسمگلنگ کی روک تھام بھی ممکن ہوگی پارلیمانی سیکریٹری برائے فشریز حاجی برکت رند نے مارکیٹ کے آغاز کو پاک ایران تعلقات میں بہتری اور مقامی روزگار کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا یاد رہے کہ اس مارکیٹ کا افتتاح گزشتہ برس وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کیا تھا، تاہم انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ فعال نہ ہو سکی۔ اب دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی تعاون کے نتیجے میں اس منصوبے کو عملی شکل دی جا رہی ہے، جو سرحدی علاقوں میں معاشی خودمختاری، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھے گا۔

Comments are closed.