وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال سے ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ عثمان ڈی اون کی ملاقات

17

‎اسلام آباد، 25 جولائی 2025

‎ورلڈ بینک کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے نائب صدر، جناب عثمان ڈی اون نے آج وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

‎ملاقات میں وزارتِ منصوبہ بندی اور ورلڈ بینک کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔

ورلڈ بینک کے نائب صدر نے وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے گراں قدر خدمات کو سراہا،

اس موقع پر ورلڈ بینک کے نائب صدر جناب عثمان ڈی اون نے 5Es پروگرام کی تشکیل پر حکومتِ پاکستان کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ورلڈ بینک کا 6 نکاتی ترقیاتی ایجنڈا اور پاکستان کے فائیو ایز ایجنڈا قریب تر ہیں۔ انہوں نے شراکت داری کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

‎وفاقی وزیر نے زور دیا کہ قومی ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے ورلڈ بینک اور وزارت کے مابین سابقہ شراکت داری کو ازسرِنو فعال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت صنعتی بنیادوں سے نکل کر ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈل کی جانب بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس نئی عالمی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

‎وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کو اپنانا ناگزیر ہے۔ پاکستان اپنی برآمدات کو 32 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اقتصادی استحکام اور خود کفالت حاصل کی جا سکے۔

‎اس موقع پر وفاقی وزیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کا پابند بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ اقدام دنیا کو غذائی اور آبی بحران سے دوچار کر سکتا ہے، جس سے عالمی امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

‎وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت فیصلے کیے جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان پالیسیوں کی بدولت سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج 130,000 پوائنٹس کی سطح عبور کی۔

‎پروفیسر احسن اقبال نے بچوں میں نشوونما کی کمی کو ایک سنگین قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس پر قابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے ۔

‎انہوں نے تعلیم کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح میں اضافہ ایک مثبت اور حوصلہ افزا رجحان ہے۔

‎وفاقی وزیر نے ترقیاتی اہداف کے حصول میں خواتین کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی تمام سماجی و اقتصادی منصوبوں میں خواتین کی فعال شمولیت کے لیے پُرعزم ہے۔

‎انہوں نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے “5Es” حکمتِ عملی ترتیب دی ہے تاکہ پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

‎ماحولیاتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے پانی کی قلت کو عالمی مسئلہ قرار دیا اور اس سے نمٹنے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ورلڈ بینک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

‎انہوں نے مزید کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثر پسماندہ اور غریب علاقے ہوئے، ترقی یافتہ ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بوجھ کو بانٹنے میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا

Comments are closed.