وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں حلف برداری پر بلاجواز تنقید کے حوالے سے بیان

23

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں حلف برداری پر بلاجواز تنقید کے حوالے سے بیان

چند سیاسی عناصر آئین اور قانون کا مطالعہ کئے بغیر سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے مخصوص نشستوں کے اراکین کی حلف برادری کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو قابل افسوس امر ہے. اعلامیہ

ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات مخصوص نشستوں کے عدالتی فیصلے اور سینیٹ الیکشن کے آئینی عمل کے حوالے سے دانستہ طور پر بے یقینی کی صورتحال پیدا کرنے کی مزموم کوشش ہیں. اعلامیہ

اس حوالے سے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جنہوں نے آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت اپنی آئینی ذمہ داری نبھائی، ان پر تنقید بھی بے بنیاد اور قابل افسوس ہے. اعلامیہ

26ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 255 کے تحت اگر کسی صوبے میں کسی آئینی عہدے کی حلف برداری میں دانستہ تعطل یا غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہو تو درخواست وصول ہونے کی صورت میں اس صوبے کے چیف جسٹس کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی حلف برداری کیلئے کسی شخص کی نامزدگی کریں گے. اعلامیہ

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کو ذمہ داری سونپ کر آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت اپنی آئینی ذمہ داری نبھائی ہے. اعلامیہ

پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور نظام کو شفاف اور بہتر طور سے چلانے کیلئے آئینِ پاکستان مکمل رہنمائی کرتا ہے، جو عوامی نمائندگان کی مجموعی دانش کا عکاس اور ملکی سلامتی و مفادات کا محافظ ہے. اعلامیہ

Comments are closed.