پاکستانتازہ ترین

جموں و کشمیر لبریشن سیل اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے اشتراک سے جموں کشمیر ہاؤس میں یوم شہداء کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا

اسلام آباد (پی آئی ڈی) 13 جولائی 2025
جموں و کشمیر لبریشن سیل اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے اشتراک سے جموں کشمیر ہاؤس میں یوم شہداء کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔تقریب میں وزراء حکومت سردار جاوید ایوب ،محترمہ تقدیس گیلانی ، جنرل(ر) زاہد محمود ،محمد فاروق رحمانی ،محمود احمد ساغر ،سید فیض نقشبندی ،سردار عثمان علی خان ،محترمہ شمیم شال ،راجہ خان افسر خان ،عبدالحمید لون ،سردار عابد عباسی ،سردار نجیب الغفور ،راجہ راشد رضا ،سید ضمیر الحسن ،سردار صدیق ۔نقوی ،امتیاز وانی،غلام نبی بٹ ،رضوان سیفی ،روبینہ بٹ،سردار ماجد شریف ، خواجہ عمران الحق ،ساجد کیانی ،خلیق احمد سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی ۔آزادکشمیر کے وزیر سردار جاوید ایوب نے کہا کہ آج کا دن کشمیر کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جب شہداء کشمیر نے ایک بڑے مقصد کیلیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،لوگ کہتے ہیں وہ منزل کہاں ہے جس کیلیے اتنی قربانیاں دی گئیں مگر میں سیاسی طالب علم کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ ہم آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں میں ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے جانوں کے نذرانوں کے ذریعے تحریک آزادی کو جلا بخشی ۔انہوں نے کہا کہ شہداء کشمیر ہوں یا شہداء جموں یہ سب خراج عقیدت کے مستحق ہیں ،یہ وہ عزم اور حوصلہ تھا کہ یہ صدا بند نہیں ہوئی،ایک نکتے پر ہمارا اتفاق ہے کہ اللہ اکبر یہی ہماری آزادی کا محور ہے ،ہمیں کلمے نے اتحاد و اتفاق سے رکھا ہوا ہے ،پاکستان ہمیشہ مضبوط ہاتھوں میں رہا کیونکہ اس کے قیام کی بنیاد لا الہ الا اللہ ہے ،بطور سیاسی کارکن سمجھتا ہوں کہ کشمیر کی آزادی پر بات کرنا پاکستان پر قرض ہے ،میرا ایمان ہے کوئی بھی پاکستان کا لیڈر اور شہری کشمیر پر ساتھ ہے ۔پاک فوج نے وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،بھارت ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ای سی او کانفرنس میں پہلگام واقعہ کو شامل نہیں کرا سکا یہ پاکستان کی سفارتی جیت ہے ۔آزادی کی تحریکوں میں 75 سال کوئی بڑی بات نہیں انشاءاللہ تحریک آزادی کامیابی سے ہم کنار ہو گی ، غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں انسانیت کے ساتھ کہیں بھی زیادتی ہو ہم آواز بلند کرتے رہیں گے ۔وزیر حکومت محترمہ تقدیس گیلانی نے کہا کہ پوری دنیا کو ایک پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے ،آج کے دن ہم شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،کشمیری
مسلمانوں کیلیے اسوقت کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود آزادی کی شمع کو روشن رکھنا ہمارے اسلاف کا کارنامہ ہے ۔10 مئی کو بھارت کو دندان شکن جواب دیا گیا بلکہ بھارت اور اسرائیل کے کشمیر کو غزہ بنانے کا خواب بھی چکنا چور کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اللہ پاک نے ان کی ناپاک جسارت ختم کر دی ،آزادکشمیر ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری حریت قیادت اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے ،بھارت کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے وہاں مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے خواتین اور بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ۔میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں ،ملکی سالمیت کیلیے ان کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔پاکستان کبھی بھی بھارت سے مرعوب نہیں ہو گا جنرل(ر) زاہد محمود نے کہا کہ میں اس تقریب سے خطاب کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں ،کشمیریوں نے اپنے خون سے ایک ایسی تاریخ رقم کر دی ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا ۔آج کے دن شہداء کشمیر اور شہداء پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔کشمیر کی آزادی دراصل پاکستان کی آزادی ہے ،پاکستان میں رہنے والا کوئی شخص سوچ نہیں سکتا کہ وہ کشمیر پر کمپرومائز کریگا میں کشمیری شہداء اور حریت کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ،میں ایک سپاہی ہوں جب ملک اور قوم کیلیے قربانی دی جاتی ہے تو اسے Recognize کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کا جو central تھیم ہے وہ کشمیر ہے اس کے علاؤہ کوئی اور نہیں ،کوئی بندہ یہ سوچے بھی نہ کہ ہم۔اسرائیل کو تسلیم کریں گے ،بھارت اور کشمیر پر زیرو ٹالرنس ہے ،پلوامہ واقعہ پر بہت پریشر آیا کہ بھارت کو face saving دی جائے ،مگر ہم نے صاف انکار کر دیا ،ہمارے ملٹری ردعمل پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے بنیان المرصوص کی کامیابی قوم کی کامیابی ہے ،یہ اعزازات قومی اعزاز ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ میں اسرائیل کا تعاون شاملِ رہا مگر پاکستان نے اسکا منہ توڑ جواب دیا ہمیں ہندو توا سوچ کا مقابلہ کرنا ہے اور اسے شکست دینی ہے ۔ہمیں بطور قوم اسکا مقابلہ کرنا ہے یہ تب ہو گا جب پاک فوج اور عوام ملکر اسکا مقابلہ کریں گے ۔دشمن اسمیں دراڑ ڈالنا چاہتا ہے مگر انشاءاللہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گا ۔لسانی بنیادوں پر تقسیم کی کوششیں ہو رہی ہیں جسے ملکر ناکام بنانا ہو گا ۔ہمیں اتحاد و اتفاق سے آگے بڑھنا ہے اسی لئے ہمارے شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا ۔پاکستان کو مضبوط و طاقتور بنانا ہے اسی میں ہماری کامیابی ہے ۔حرہت رہنماء محمد فاروق رحمانی نے شہداء کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف تحریک آزادی کی کامیابی تک جدوجہد جاری رہے گی ۔1931 کے شہداء کی قربانی آج بھی مشعلِ راہ ہے،کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک مظلوموں کو اختیارات نہ ملیں،عبدالقدیر کی قربانی نے تحریکِ آزادی کو نئی روح بخشی،1931 میں 22 کشمیری شہید ہوئے، ان کی قربانی کا مقدمہ آج بھی زندہ ہے،برطانوی راج میں کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد کو کچلنے کی کوشش کی گئی،ہر دور میں کشمیری عوام پر مظالم ڈھائے گئے، لیکن حوصلے کبھی کم نہیں ہوئے،کشمیری غلامی کی زنجیروں میں جکڑے گئے، لیکن جدوجہد جاری رہی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی سیاسی تحریک نے پورے برصغیر میں اثرات ڈالے،2019 کے بعد کشمیر میں ایسے قوانین نافذ کیے گئے جنہوں نے انسانی حقوق سلب کیے،کشمیر میں اختیارات کی منتقلی کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں،مفکر پاکستان علامہ اقبال کے الفاظ آج بھی کشمیر کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں،کشمیریوں کی آواز دبائی گئی، لیکن جدوجہد نہ رک سکی، نہ رکے گی،آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کا مقدمہ مظلوموں پر چلایا جا رہا ہے،تحریک آزادی کشمیر کامیاب ہو کر رہے گی۔حریت کانفرنس کے سابق کنوینیر محمود احمد ساغر نے کہا کہ شہداء کشمیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،آج کا دن یہ پیغام دیتا ہے کہ تحریک آزادی کو گرم رکھنا ہے ،انسانی تاریخ میں یہ واقعہ نہیں ملتا جہاں بائیس افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،کشمیر میں جو حالات اسوقت پیدا ہوے کشمیر ایک بار پھر دنیا میں سامنے آنا شروع ہوا ،امریکی صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکا ،ہم بات چیت کے حق میں ہیں ،پیپلز لیگ ہو ،جماعت اسلامی ہو محاذ آزادی ہو ہم نے 1986 تک پرامن جدوجہد کی میں خود بارہ سال جیل گزار چکا ہوں ،1989 میں ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بندوق اٹھائی ہمارے سامنے دنیا آ گئی ،ہمارے آفس کےوزٹ دنیا کے تمام سفراء کرتے تھے اب جو مرحلہ آ رہا ہے اسکے لئے آپ کو تیاری کرنا ہوگی اور کشمیریوں کو اعتماد میں لینا ہو گا مشاورت کریں آج پھر مسئلہ کشمیر دنیا میں گونج رہا ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں مسئلہ کشمیر کا بہترین حل ہے ہمیں حق رائے شماری دیا جائے اس لیے اس مسئلے کا پائیدار اور مستقل حل نکالا جائے ۔سید فیض نقشبندی نے 13 جولائی کے عظیم شہداء اور آج تک کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا ،یہ وہ دن ہے جب کشمیریوں نے خود ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ،شہداء نے ظلم کے خلاف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ،بھارت اب بھی مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے جہاں اسکی نو لاکھ سے زائد فوج ہے ،میراوعظ عمر فاروق کو جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہ شہداء کی بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا مقصد تحریک آزادی کو بدنام کرنا تھا ،بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی ۔پاکستان میں سیاسی قیادت اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں خاص طور پر فیلڈ
مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا اور اسے عبرتناک شکست ہوئی ۔سردار عثمان علی خان نے کہا کہ انٹرا کشمیری مذاکرات جاری رہنا چاہیے ، ہم اگلی جنریشن کے ساتھ connect نہیں کر پارہے اور سوشل میڈیا کے ٹولز کو استعمال نہیں کر رہے ۔انہوں نے کہا کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں راستے کھلے اور کشمیریوں کو انٹرکشن کا موقع ملا ،ہم۔سب کشمیری ہیں اور ہمیں ملکر اس جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا اوورسیز کشمیریوں کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا ،13 جولائی کشمیریوں کا اعزاز ہے یہ واقعہ تاریخ میں کہیں نہیں ملتا ،اس سے کشمیریوں کے اندر جو شدت اٹھی اس کی وجہ سے کشمیر میں 1932 میں ایک جماعت بنی جس نے 1934 میں ریاست کی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی ،اسی کا تسلسل الحاق پاکستان کی قرارداد ہے،اے کے بریگیڈ سابق وزیراعظم اور صدر آزادکشمیر مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان نے قائم کیا ،پھر مجاہد بٹالین کا قیام بھی مجاہد اول کا کارنامہ ہے یہ سب کشمیریوں کا اعزاز ہے ۔
آج کا دن ان عظیم کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ہے مگر تاحال یہ تحریک جاری ہے۔مقررین نے کہا کہ کشمیری آج بھی اپنی آزادی کا جھنڈا لیکر عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں بھارت سے آزادی دلوائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جیلوں میں آزادی کیلیے پابند سلاسل عظیم رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شہداء چاہے 1931 کے ہوں یا 1947 کے یا پھر 1965 کے یا 1971 کے یا 1989 کے سب شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ،پاکستان نے بنیان المرصوص کے ذریعے دنیا کو باور کرا دیا ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سفراء کی کانفرنس بلائی جانی چاہیے جس کیلیے آزاد حکومت کو initiative لینا چاہیے ۔کشمیر جہاد کے ذریعے آزاد ہو گا کیونکہ سفارتی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہیں ،ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل راجہ خان افسر خان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب کی نظامت کے فرائض حریت رہنماء عبدالحمید لون اور انچارج سوشل میڈیا سردار نجیب الغفور نے ادا کئے ۔تقریب کے اختتام پر شہداء کشمیر ،و پاک فوج اور تحریک آزادی کی کامیابی کیلیے دعا کی گئی

Related Articles

Back to top button