خیبر ؛مرکزی حکومت کیجانب فاٹا جرگہ کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہیں. قبائلی اضلاع میں غیر آئینی مداخلت ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا

20

خیبر ؛مرکزی حکومت کیجانب فاٹا جرگہ کمیٹی کو یکسر مسترد کرتے ہیں. قبائلی اضلاع میں غیر آئینی مداخلت ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا. سابقہ فاٹا کے عوام پر مزید تجربے و غیر آئینی نظام مسلط کرنا کہاں کا انصاف ہے. ہم پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب جیسے حقوق چاہتے ہیں. کمیٹی بنانا اور غیروں کو ہم پر پوچھے بغیر مسلط کرنا انصاف کے منافی و معدنیات پر وفاق کا قبضہ ہے. ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں سیمینار سے سیاسی رہنماؤں کی گفتگو

وفاقی حکومت کی جانب سے سابقہ فاٹا قبائلی اضلاع کے لئے جرگہ بحالی کمیٹی کے عنوان پر ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی سیمینار میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، قومی وطن پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداران شریک ہوئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سابقہ فاٹا کے لئے جرگہ بحالی کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کے ساتھ انضمام کے وقت وعدے کیے گئے تھے لیکن تاحال انہیں پورا نہیں کیا گیا سابقہ فاٹا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا تعلیمی نظام،  انفراسٹرکچر کے علاوہ امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث مفلوج ہو چکے ہیں جن پر مزید تجربوں کی ضرورت نہیں ہے عوامی نیشنل پارٹی صوبائی کونسل ممبر فضل الرحمن افریدی، جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری امان اللہ افریدی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء عبدالرازق شینواری ، ضرب اللہ عرف حاجی بابا، کمیونسٹ پارٹی کے رہنماء نجیب خاوریچن، افتاب شینواری اور دیگر نے وزیراعظم کی جانب سے جرگہ بحالی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے فاٹا مرجر کے رول بیک کی کڑی قرار دے دیا اور کہا کہ عجیب سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے دنیا بھر میں قانون بننا پارلیمنٹ کا اختیار ہے لیکن بدقسمتی سے قبائلی عوام کے لئے غیروں کے اشاروں پر کمیٹی بنائی جاتی ہیں جو جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہیں انہوں نے کمیٹی پر اعتراض اٹھائیں کہ اس کمیٹی میں اکثریت رکن کا تعلق پنجاب سے ہیں جو کبھی پختون قوم کے لئے خیرخواہ نہیں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں اختیارات صوبے کے پاس ہے اس میں وفاق کی داخل اندازی ہر گز قابل قبول نہیں. انہوں نے سوالات اٹھائے کہ کمیٹی بنانے کی ضرورت آخر کیوں پڑ گئی عوام کے فیصلے پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے لیکن قبائلی عوام کے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں پشتون قوم کی اتفاق وقت کا تقاضا ہے مقررین نے کہا کہ 73 آئین متفقہ آئین ہے وقت کے ترامیم کئے لیکن بعض قوتوں نے اپنے مفادات کے لئے ترامیم کئے ہیں انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا جو قبائلی عوام نے مسترد کئے ہیں وہ قبائلی عوام کے فیصلے نہیں کر سکتے جبکہ پنجاب سے شامل سیاسی لوگ بھی قابل قبول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس نے بنائی ہے سب کو معلوم ہے قبائلی علاقوں میں معدنیات پر قبضے کے لئے بنائی گئی کمیٹی کو صورت نہیں مانیں گے انہوں نے مرجر اندرونی مسئلہ ہے کیونکہ باہر قوتوں کی اشاروں پر یہ ڈرامہ بازیاں ہو رہی ہیں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء سمینار میں واضح کیا کہ مرجر کسی صورت واپس نہیں ہو گا کمیٹی قبائلی عوام کے دکھوں کو کم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے بلکہ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم اور آرمی چیف کو تجویز دی تھی کہ قبائلی عوام کے مشکلات کم کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے سیمنار میں جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پہلے بھی انضمام کے خلاف تھے اور اب بھی ہے انضمام کے وقت وعدے ایفاء نہیں ہوئے علیحدہ صوبے یا ترمیم کے حق میں تھے اب وہ لوگ بھی پریشان ہے جس نے مرجر کی حمایت کی تھی. اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ساجد علی افریدی نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے جرگہ بحالی کے لیے بنائی گئی کمیٹی فاٹا کے عوام کی محروموں کے ازالے کے لئے نیک شگون قرار دیا اور کہا کہ کمیٹی کا مقصد نہ ہی فاٹا کے عوام پر مزید تجربے کرنا ہے اور نہ ہی ایف سی ار کو رول بیک کرنا ہے ایف سی ار کالا قانون تھا جو کہ دفن ہو چکا ہے

Comments are closed.