بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے صحت بخش خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے کاوشیں جاری
(کوئٹہ/ 10 جولائی 2025)
صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مضر صحت سبزیوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں کرانی روڈ اور قمبرانی روڈ کوئٹہ میں سیوریج کے آلودہ پانی سے سیراب کی جانے والی 60 ایکڑ پر مشتمل سبزیوں کی کاشت کو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔کارروائی کے دوران پالک، بینگن، پودینہ، سلاد اور دیگر سبزیاں جو نالے کے آلودہ پانی سے کاشت کی جا رہی تھیں، مکمل طور پر ختم کی گئیں۔ بی ایف اے کی ٹیم نے پولیس کے تعاون سے آپریشن کے دوران سیوریج واٹر کے ذرائع بھی مستقل طور پر بند کر دیے، تاکہ دوبارہ کاشت کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔آپریشن ٹیموں نے ٹریکٹرز کے ذریعے زمین ہموار کرتے ہوئے کاشت شدہ فصلیں جڑ سے اکھاڑ دیں۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی وقار خورشید عالم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مضر صحت فصلوں کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے اور بلا تعطل کارروائیاں جاری ہیں۔ کارروائیوں کے دوران اب تک کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں 1100 ایکڑ سے زائد اراضی کو تلف کیا گیا ہے، صحت دشمن کاشتکاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیاہے کہ صحت بخش و محفوظ خوراک ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس کے حصول میں کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق ناقص طریقۂ کاشت اور آلودہ پانی سے اگنے والی سبزیاں مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس، معدے کے انفیکشن اور دیگر خطرناک امراض شامل ہیں جس کے پیشِ نظر ایسی کسی بھی سرگرمی کی بی ایف اے کے قوانین میں کوئی گنجائش نہیں۔
Comments are closed.