ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز مکران ڈویژن وہاب اسحاق بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے سال 2025 کے دوران مکران ڈویژن کے دو پریس کلب تربت اور گوادر کو مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے
تربت 21 جون 2025: ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز مکران ڈویژن وہاب اسحاق بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے سال 2025 کے دوران مکران ڈویژن کے دو پریس کلب تربت اور گوادر کو مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاقائی صحافت کو فروغ دینا اور مقامی صحافیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حالیہ دورہ تربت پریس کلب کے موقع پر کیا جہاں انہوں نے پریس کلب کے اراکین سے ملاقات کی اور صحافتی امور پر گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے تربت پریس کلب کے جنرل سیکریٹری نور شاہ نور کو 20 لاکھ روپے کا گرانٹ چیک بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ اطلاعات کی جانب سے اب تک تربت پریس کلب کو مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے جبکہ گوادر پریس کلب کو 20 لاکھ روپے کی گرانٹ جاری کی جا چکی ہے۔ یہ مالی امداد پریس کلبوں کی بنیادی ضروریات، تکنیکی سہولیات، انفراسٹرکچر کی بہتری اور صحافتی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔محکمہ اطلاعات بلوچستان کی پالیسی کے تحت ہر سال صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم پریس کلبوں کو 20 لاکھ روپے سالانہ گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد صوبے بھر میں ایک آزاد، ذمہ دار اور بااختیار صحافت کو فروغ دینا ہے تاکہ مقامی سطح پر درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں صحافیوں کو بہتر مواقع میسر آ سکیں۔وہاب اسحاق بلوچ نے مزید کہا کہ صرف تربت اور گوادر ہی نہیں بلکہ لسبیلہ، نصیرآباد، خاران، خضدار سمیت دیگر اضلاع کے پریس کلب بھی اس حکومتی اقدام سے مستفید ہو رہے ہیں۔اس پالیسی کے ذریعے صحافیوں کو نہ صرف جدید صحافتی سہولیات تک رسائی حاصل ہو گی بلکہ ایک پیشہ ورانہ اور محفوظ ماحول میں اپنی خدمات انجام دینے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ اس اقدام سے بلوچستان میں صحافت کے معیار میں بہتری آئے گی اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کی نشاندہی مزید مؤثر طریقے سے ممکن ہو سکے گی۔تربت پریس کلب کے اراکین نے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلقات عامہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معاونت نہ صرف صحافیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتی ہے بلکہ علاقے میں آزاد صحافت کو مستحکم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
Comments are closed.