وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ٹیلی فون ، وزیراعظم کا ایران اور اسرائیل کے درمیان سنگین بحران کے پرامن حل کیلئے بات چیت اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور
وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا ٹیلی فون ، وزیراعظم کا ایران اور اسرائیل کے درمیان سنگین بحران کے پرامن حل کیلئے بات چیت اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور
اسلام آباد۔20جون (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہبا ز شریف نے ایران اور اسرائیل کے درمیان سنگین بحران کے پرامن حل کیلئے بات چیت اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے تشویشناک ہے، پاکستان اور امریکہ کو تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے، اس موقع پر وزیراعظم اور امریکی وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان عملی اقدامات پر بھی اتفاق کیا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو جمعہ کی شام ٹیلی فون کیا۔ اپنی گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے صدر ٹرمپ کی جرات مندأنہ قیادت کی تعریف کی اور سیکرٹری مارکو روبیو کی فعال سفارتکاری کو سراہا جس نے پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی مفاہمت تک پہنچنے اور دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان ایک بڑی تباہی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں مثبت بیانات جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے سب سے زیادہ حوصلہ افزا ء ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات کے آغاز سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں انہوں نے جموں و کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، تجارت اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے پاکستان کی آمادگی کا اعادہ کیا۔اس موقع پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص ایران اسرائیل بحران پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم نے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے اس سنگین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں امن کے لئے کسی بھی کوشش میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے جو کہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے تشویشناک ہے۔تجارت پر صدر ٹرمپ کی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، کان کنی، معدنیات اور آئی ٹی سمیت وسیع شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو آگے بڑھانے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے بارے میں وزیراعظم نے پورے ملک سے دہشت گردی کی لعنت بالخصوص بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔اس حوالے سے سیکرٹری مارکو روبیو نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کو ایسے تمام خطرات سے نمٹنے کے لئے امریکہ کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔وزیر اعظم نے اس ہفتے کے شروع میں واشنگٹن میں صدر ٹرمپ اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان انتہائی خوشگوار اور نتیجہ خیز گفتگو پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعظم اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو اب تمام شعبوں میں ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔وزیراعظم نے پاکستان اور امریکہ میں اس مثبت رفتار کو آگے بڑھانے کے لئے متواتر اعلیٰ سطح کے رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے صدر ٹرمپ کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ بھی صدر ٹرمپ سے جلد از جلد ملاقات کے منتظر ہیں۔وزیراعظم نے سیکرٹری مارکو روبیو کے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم کی طرف سے ٹیلیفون کال موصول کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے سیکرٹری مارکو روبیو نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستان کے بھارت کے ساتھ جنگ بندی مفاہمت کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے لئے اس کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا۔اس تناظر میں انہوں نے ایران کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے پر پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایران کے ساتھ جاری امن کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ علاقائی اور عالمی امن اور استحکام کے فروغ کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
Comments are closed.