سینیٹ کمیٹی کا این ایچ اے منصوبوں میں شفافیت پر زور، بروقت تکمیل کی ہدایت
سینیٹ کمیٹی کا این ایچ اے منصوبوں میں شفافیت پر زور، بروقت تکمیل کی ہدایت
اسلام آباد۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تحت بعض سڑکوں کے منصوبے ایسے ہیں جن کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور بروقت مکمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے خاص طور پر CAREC ٹرنچ 3 منصوبے کا ذکر کیا، جو راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 330 کلومیٹر طویل کوریڈور پر مشتمل ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ 2020 میں منظور ہوا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد کا آغاز تاحال نہیں ہو سکا۔ منصوبے کی تخمینی لاگت 85 ارب روپے ہے، جس میں راجن پور سے ڈی جی خان تک 121.5 کلومیٹر (چھ بائی پاسز) اور ڈی جی خان سے ڈی آئی خان تک 208.2 کلومیٹر (پانچ بائی پاسز) شامل ہیں۔ چیئرمین نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ کنسلٹنسی فرموں کی تقرری کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار پر مشتمل تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
کمیٹی نے CAREC کوریڈور ڈویلپمنٹ انویسٹمنٹ پروگرام – ٹرنچ 3 کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ حکومت کے تحت اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا۔لاٹ 1 (راجن پور تا جام پور – 58 کلومیٹر) کے ٹینڈر کے حوالے سے بتایا گیا کہ چھ کمپنیوں نے ٹینڈر جمع کروائے تھے جن میں سے پانچ تکنیکی لحاظ سے اہل قرار پائیں۔ کمیٹی نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ جس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا وہ اس سے قبل 6 ارب روپے کے ملتان تا لودھراں منصوبے کو مکمل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسی کمپنی کو 172 ارب روپے کے منصوبے کا ٹھیکہ کیسے دے دیا گیا جس کا ماضی ناقص کارکردگی پر مبنی ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے این ایچ اے اور گریویفینس ریڈریسل کمیٹی (GRC) کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی اور معاملے کو ایف آئی اے اور نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔اراکین کمیٹی نے این ایچ اے کی طرف سے ایک غیر اہل کمپنی کو اہم منصوبہ سونپنے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ CAREC-II اور CAREC-III منصوبوں کی بولیوں کی مکمل تفصیلات (اہل اور نااہل کمپنیوں کی فہرست سمیت) دو دن کے اندر کمیٹی کو پیش کی جائیں۔ انہوں نے سیکریٹری مواصلات کی اجلاس میں غیر حاضری پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اہم سرکاری اداروں کے سینئر حکام کی عدم موجودگی میں کمیٹی مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ڈی آئی خان میں اے ڈی بی (ADB) فنڈز روڈ منصوبوں سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے جاری تمام منصوبوں کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی کو بتایا گیا کہ 6 جنوری 2023 کے اجلاس میں این ایچ اے بورڈ نے متعلقہ کمپنی کو منصوبے کے لیے نااہل قرار دیا تھا، جب کہ 23 دسمبر 2022 کو اس کے ساتھ موجودہ معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا تھا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ کیسے وہی کمپنی CAREC-III منصوبے کے لیے دوبارہ اہل قرار دے دی گئی؟ حالانکہ وہ CAREC-II منصوبے میں صرف 8 فیصد کام مکمل کر پائی تھی۔
کمیٹی کو وزارتِ اقتصادی امور کے اسپیشل سیکریٹری نے خیبر پختونخوا میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ موافق شرح مبادلہ کی بدولت صوبے کو اضافی فنڈز موصول ہوئے تاکہ جاری منصوبوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے کئی منصوبے محکموں کی نااہلی کے باعث مکمل نہیں ہو سکے۔ صوبائی نمائندوں نے جواب دیا کہ زیادہ تر منصوبے آخری مراحل میں ہیں اور انہیں مکمل کرنے کے لیے مزید فنڈز اور وقت درکار ہوگا۔
مستقبل کے روڈ سیکٹر کے منصوبوں کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے تجویز دی کہ خیبر پختونخواہ کا پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ CAREC-III منصوبے کی لاٹ 4 (طیبی قیصرانی تا ڈی آئی خان – 96.245 کلومیٹر) کا جائزہ لے اور اس میں پائی گئی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ٹھیکہ دینے سے گریز کرے۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ گزشتہ پانچ سالوں میں شروع کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات، اہل اور نااہل قرار دی گئی کمپنیوں کے ناموں کے ساتھ، رپورٹ کی صورت میں پیش کی جائیں۔
کمیٹی نے بعض منصوبوں کے ڈائریکٹرز کی طرف سے رشوت طلب کرنے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ ایسے افراد کے خلاف فوری اور مؤثر تادیبی کارروائی کی جائے۔
Comments are closed.