بلوچستان میں پرنٹ میڈیا اور حکومت: فاصلے سے فہم و تعاون کی جانب

22

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا اور حکومت: فاصلے سے فہم و تعاون کی جانب

سید انورشاہ

بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران حکومت اور پرنٹ میڈیا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اور غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بپپرا) کے حوالے سے سامنے آنے والے چند مفروضے اور قیاس آرائیاں تھیں، جنہیں سرکاری سطح پر واضح یا مسترد کرنے کی کوئی موثر کوشش نہیں کی گئی۔ نتیجتاً صوبے کے اخبارات کو احتجاج، خاموش مزاحمت اور قلم کے ذریعے اپنا موقف اجاگر کرنا پڑا۔ زمہ داران کی جانب سے مسلسل خاموشی نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا، یہاں تک کہ یہ معاملہ ہر فورم پر زیر بحث آیا۔ اس پس منظر میں پرنٹ میڈیا اداروں نے ایک متفقہ لائحہ عمل اپنایا، جس میں نہ صرف صوبائی بلکہ قومی سطح کی صحافتی تنظیموں نے بھی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (APNS) اور کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) جیسے نمایاں ادارے و دیگر اس حمایت میں پیش پیش رہے۔یہ پہلا موقع تھا کہ بلوچستان میں اخباری صنعت سے وابستہ تمام شعبے مالکان، ایڈیٹرز، کل وقتی صحافی، اخبار فروش کے ساتھ ساتھ وکلا، سیاسی جماعتیں، سماجی و کاروباری تنظیمیں اور لیبر فیڈریشن ایک پیج پر متحد نظر آئیں۔ اس اتحاد نے واضح کر دیا کہ پرنٹ میڈیا کے حوالے سے پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں سطحی نہیں بلکہ سنجیدہ نوعیت کے تحفظات پر مبنی تھیں۔مسئلہ کے حل کے لئے وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کے لیے متعدد کوششیں ہوئیں، جو ان کی مصروفیات کے باعث بار بار ملتوی ہوتی رہیں۔ تاہم، یہ تمام اندیشے اور افواہیں اس وقت دم توڑ گئیں جب صوبائی حکومت نے حالیہ بجٹ میں پرنٹ میڈیا کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی مالی معاونت مختص کرنے کا اعلان کیا ۔صوبائی حکومت کا یہ اقدام اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے آگاہ ہے بلکہ وہ صحافت خصوصاً پرنٹ میڈیا کی مصدقہ حیثیت کو تسلیم کرتی ہے، اس کے استحکام اور ترقی کے لیے سنجیدہ عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا کے تمام ادارے وزیراعلی اور ان کی ٹیم کی تہہ دل سے شکر گزار ہے، جنہوں نے صوبے کے پرنٹ میڈیا سے متعلق منفی افواہوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے اسے بااختیار بنانے کی عملی مثال قائم کی۔اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے کیٹیگریز، پالیسی اور اشتہارات کی شفاف تقسیم کے لیے تجاویز طلب کرنا بھی ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس سے جہاں کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ ممکن ہوگا، وہاں اخبارات کے لئے مختص فنڈز کا صحیح استعمال ہوگا اور ہر ادارے کو اس کا جائز حق ملے گا۔ اور یہ رقم مخصوص جیبوں میں بلاوجہ جانے سے بچ جائیگا ۔ جس سے حقیقی پریس کو استحکام ملے گا ۔یہ لمحہ نہایت اہم ہے کہ حکومت اور میڈیا ادارے باہمی اعتماد، مشاورت اور شفافیت کی بنیاد پر مل کر آگے بڑھیں۔ اگر اسی جذبے کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا گیا تو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں صحافت خصوصاً مصدقہ پرنٹ میڈیا کا مستقبل روشن، آزاد اور ذمہ دار ہوگا۔کیونکہ بلوچستان جیسا حساس صوبہ پرنٹ میڈیا اور حکومت کے درمیان تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریاست مخالف عناصر ہر وقت ایسے اختلافات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تاک میں رہتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعلی بلوچستان اور پرنٹ میڈیا نے تصادم کی ان کوششوں کو ناکام بنا کر بالغ نظری اور حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے، جو لائق تحسین ہے۔ پرنٹ میڈیا ان تمام تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے ہر طرح کے تعاون کی یقین دھانی کرائی تھی۔

Comments are closed.