بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے فوراً بعد سیوریج واٹر سے کاشت کی گئی غیر معیاری اور انسانی صحت کے لیے مضر سبزیوں کے خلاف کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے

19

کوئٹہ 11 جون:۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے فوراً بعد سیوریج واٹر سے کاشت کی گئی غیر معیاری اور انسانی صحت کے لیے مضر سبزیوں کے خلاف کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سمنگلی روڈ سے متصل علاقے کلی رمضان میں بڑی مقدار میں زیرِ کاشت اور تیار فصلیں تلف کی گئیں۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق زمین کو نالوں کے زہریلے پانی سے سیراب کیا جا رہا تھا جہاں سبزیاں اگا کر مقامی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے تیار کی جا رہی تھیں۔ ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے وقار خورشید عالم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پورے عزم، فعالیت اور شفافیت کے ساتھ انجام دیتی رہے گی۔ ”ایسی سبزیاں انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک اور متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں اور ان کی کاشت کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔”ڈی جی بی ایف اے نے مزید کہا کہ نالوں کے آلودہ پانی سے سبزیاں اگانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحت بخش خوراک کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں اور ایسے اقدامات کی نشاندہی میں اتھارٹی سے تعاون کریں۔واضح رہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی یہ مہم چیئرمین بی ایف اے اور صوبائی وزیر خوراک کی خصوصی ہدایات پر جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو ناقص و مضر صحت سبزیوں سے بچانا اور فوڈ سیفٹی کے اصولوں کو یقینی بنانا ہے۔اب تک اس مہم کے دوران کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں 300 ایکڑ سے زائد زمین پر کاشت کردہ غیر صحت بخش سبزیاں تلف کی جا چکی ہیں، جبکہ مہم آئندہ دنوں میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔

Comments are closed.