خارجہ امورمیں اہلیت کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے،شاہ محمود قریشی

0 35

کراچی (این این آئی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ امورمیں اہلیت کے لیے معاشی استحکام ضروری ہے، ہاتھ پھیلانے والے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی، دنیا کی سوچ کا انداز بدلتا جارہا ہے، دنیا اپنی خارجہ پالیسی کو معاشی مفادات کیساتھ جوڑ رہی ہے۔ہم نے ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اورموجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالرکے قرضے واپس کئے ہیں، اپنے مفادات کے حصول کے لیے دنیا بڑی مارکیٹس کی جانب دیکھ رہی ہے، یہ ممالک انسانی حقوق اوراخلاقیات کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن عملی اقدام نہیں کئے جاتے، بھارت ایک بہت بڑی تجارتی منڈی ہے۔ اس لئے معیشت کے پیش نظربہت سے ممالک نے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھائے، ہمیں 44 ممالک میں اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، فارن آفس میں نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکووفاق ایوانہائے صنعت وتجارت(ایف پی سی سی آئی)فیڈریشن ہائوس کے دورے کے موقع پر تاجروصنعتکاروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار اور دیگرنے بھی خطاب کیا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ اکنامک ڈپلومیسی میری ترجیح ہے، وزارت خارجہ کے دروازے کھلے ہیں تاجر آئیں اور پارٹنر شپ کریں.۔انہوں نے کہا کہ خواہش ہے اقتصادی ڈپلومیسی کے ذریعے تاجروں کی خدمت کرسکیں، جائزہ لیں گے تاجروں کے لیے کیا کرسکتے ہیں، پاکستانی سفارت خانوں کو ملکی کاروباری برادری سے تعلق بڑھانا ہو گا، پاکستان کو آج روئی درآمد کرنی پڑ رہی ہے جس پر اربوں کاخرچہ ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تاجر ترقی کا انجن ہیں بنگلا دیش نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہمیں پیچھے چھوڑدیا ہے، بنگلادیش کاٹن پیدا نہ کرنے کے باوجود ویلیو ایڈیشن سے اربوں ڈالر برآمدات کر رہا ہے۔افریقہ میں انجینئرنگ سیکٹر کی بڑی مارکیٹ ہے، افریقہ میں پاکستان کی تجارت صرف ڈیڑھ ارب ڈالر ہے، فیصلہ کیا ہے افریقہ میں نئے مشن کھولیں گے اور کچھ کو اپ گریڈ کریں گے، کینیا میں پاکستان نے پہلی ٹریڈ اور سرمایہ کاری کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ سعودیہ، عرب امارات ،چین اور قطر سے اربوں ڈالر سفارتکاری سے حاصل کیے، آئی ایم ایف میں جانے سے پہلے جو معاشی دھماکا ہونے والا تھا وہ اللہ کے کرم سے رک گیا، آج بھی پاکستان کی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہیں، زرعی اشیا ایکسپورٹ کرنی چاہیے تھی درآمد کر رہے ہیں، اربوں روپے کا خوردنی تیل امپورٹ کر رہے ہیں جو پاکستان خود پیدا کر سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ توازن اور شراکت داری بنانی ہے جس کے لیے تاجروں کی رائے درکار ہے۔انہوںنے کہا کہ دنیا کی سوچ اورانداز بدل رہا ہے اور معاشی مفادات کو خارجہ پالیسیوں سے منسلک کردیا گیا ہے،پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک پاکستان معاشی طور اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہوجائے، جب تک صنعت کا پہیہ نہیں چل جاتا، جب تک روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے اور ملک میں خوشحالی نہیں آجاتی۔وزیر خارجہ نے بتایاکہ ان سب چیزوں کے لیے میں وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے پیغام ہے کہ بحیثیت وزیر خارجہ میری خواہش اور کوشش یہ ہے کہ وزارت خارجہ معاشی سفارتکاری میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ دیگر وزارتوں کے لیے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے وزارت خارجہ کس طرح اور کیا کردار ادا کرسکتی ہے سفارتخانوں کا کس طرح مزید فعال کر کے باہمی رسائی کو فروغ دیا جائے کہ معلومات اور دیگر سہولت کاریوں کے لیے سفارتی مشن کس طرح معاونت کریں یا کرنا چاہیئے؟۔وزیر خارجہ نے کہاکہ سفارتی مشنز کی تاجروں تک رسائی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو معاشی سفارتکاری کے ذریعے ہوسکتا ہے جس کے لیے تاجروں، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور وزارت خارجہ میں شراکت داری قائم ہو اور ہمیں اکٹھا آگے بڑھنا ہے۔شاہ محمود قریشی نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی رسائی سے مل کر ہمیں کام کرنا ہوگا، میرا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان نے خارجہ امور میں بہتری لانی ہے تو معاشی استحکام ضروری ہے۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ چین کے ساتھ زرعی تحقیق میں معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، پاکستان سے سستی اشیا خرید سکتے ہیں، نئے ایف ٹی اے میں ٹیکسٹائل، چینی، آلو کی ایکسپورٹ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، چین کو کہا ہے کہ ہماری مدد کریں، بے روز گاری کے لیے قطر اور جاپان سے بات چیت کی ہے، پاکستانی ہی قطر کی گرمی میں تعمیرات کر سکتے ہیں، جاپان اور یورپ میں آبادی کم ہو رہی ہے، ہم ہنر مند افرادی قوت پیدا کر کے کم ہوتی آبادی کے ملکوں کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا سی پیک میں توجہ توانائی پر تھی کیوں کہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ تھی، موجودہ حکومت نے سی پیک ٹو کا معاہدہ کیا، جس میں ٹیکنالوجی اور صنعتوں کی منتقلی کو شامل کیا گیا ہے، تین خصوصی زونز کی نشان دہی کی گئی ہے، جی ایس پی پلس کے حوالے سے بھی پوری لڑائی لڑی ہے، برطانیہ بریگزٹ کے بعد نئی منڈی کی تلاش میں ہے، برطانیہ نے پاکستان کے امن و امان کی تصدیق کی ہے، ایئرلائن کو بحال کیا اور ٹریول ایڈوائزری کو نرم کیا، ملائشیا میں جتنی آبادی ہے اتنا ہی سیاح آئے۔انہوں نے کہاکہ سرکلر ڈیٹ پہلے 38 ارب ماہانہ بڑھ رہا تھا اب 12 ارب پر آگیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ اسے صفر پر لے جائیں، ویلیو ایڈیشن پر ہم نے کوئی توجہ نہیں دی، اسپننگ میں جو کما رہا تھا بس اس نے اس میں سرمایہ کاری کی، ہمیں من حیث القوم اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت جیسے مرضی پالیسی بنالے جب تک کاروباری طبقہ بہتر نہیں ہوگا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، فارن آفس میں نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا گیا ہے، ہمیں 44 ممالک میں اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، نیروبی میں پاکستان میں ٹریڈ اور اکانومی کانفرنس کی، بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں کرائی گئیں، افریقا میں انجینئرنگ سیکٹر اور ٹریکٹر کی مارکیٹ ہے لیکن ہم نے کام نہیں کیا، جب بہت سے فیصلے معاشی نہیں سیاسی بنیادوں پر کریں تو نقصان ہوگا، سعودی عرب، امارات اور چین کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے اربوں ڈالر حاصل کیے۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کیسے آگے بڑھیں، ہم نے ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے اورموجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے قرض واپس کئے ہیں۔ پاکستان جو کپاس برآمد کرتا تھا آج درآمد کر رہا ہے، ہماری حکومت کو ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اور ہم نے اس ڈیڑھ سال میں بہت کچھ سیکھا ہے، ڈیڑھ سال قبل ہر ماہ 500 ملین ڈالر کم ہورہے تھے لیکن اب زرمبادلہ ذخائرمیں اضافہ ہورہا ہے اور اب یہ 13 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے 10 ارب ڈالر کے قرض واپس کئے ہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ صرف گفتگو کی اصول اور اخلاقی قدروں کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن عمل معاشی مفاد کے بل بوتے کیا جاتا ہے۔ اس کی حالیہ مثال مقبوضہ کشمیر ہے جہاں انسای حقوق پامال ہورہے ہیں اور اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے اپنے اقدامات سے کشمیر کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کی معیشت کی ابتر صورتحال کی 2 بڑی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ماہرین کے مطابق مقبوضہ وادی میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران بھارتی حکومت کے اقدامات کے باعث 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور بے روزگاری میں اضافے ہونے کے ساتھ 4 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی اقدامات کی وجہ سے کشمیری معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے اور جن نوجوانوں نے بینکس سے قرض لے کر اسٹارٹ اپس اور نئے کاروبار کا آغاز کیا تھا وہ دیوالیہ ہونے کے قریب اور سخت پریشان ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت نے بین الاقوامی دنیا میں جو مقام حاصل کیا تھا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک ارب کی آبادی کے ساتھ ایک بڑی منڈی ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے بہت سے ممالک نے اپنے روابط اور تعلقات کو وسعت اور گہرائی دی۔انہوں نے کہاکہ بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے نریندر مودی کی حکومت دوبارہ منتخب ہوئی ہے ملک کی معاشی نمو نصف ہوگئی جبکہ معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے عام انتخابات کے بعد 3 ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دہلی انتخابات کے نتیجے میں بھی بی جے پ کو شکست ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بی جے پی کو درپیش مشکلات کی بہت سے مشکلات ہوسکتی ہیں جس کی بہت سے وجوہات ہوسکتی ہیں جس میں ایک اثر اس کی کشمیر کے حوالے سے ظالمانہ پالیسی کا بھی ہوسکتا ہے جبکہ شہریت ترمیمی بل کے باعث جو پورے بھارت میں احتجاج ہورہے ہیں وہ بھی بی جے پی کی مشکلات کا سبب ہوسکتا ہے، لیکن ایک وجہ معاشی بدحالی بھی ہے جس کی جانب بھارت گامزن ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے بحیثیت وزیر خارجہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو 7 خطوط ارسال کیے اور ان تمام خطوط میں اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا کہ اپنی اندرونی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ جیسا کوئی واقعہ کرسکتا ہے یا خدشہ ہے کہ بھارت کسی جھوٹے فلیگ آپریشن کے ذریعے پاکستان کو نشانہ نہ بنائے جس سے ہمیں غافل نہیں رہنا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.