نیب نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو تیرہ فروری کو طلب کرلیا

0 30

راولپنڈی(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب )نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو 13 فروری کو طلب کرلیا۔ذرائع کیم طابق قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے بلاول بھٹو زرداری کو جے وی اوپل کیس میں 13 فروری کو طلب کیا ۔نیب راولپنڈی نے بلاول بھٹو کو زرداری گروپ کمپنی کا 2008 سے 2019 تک کا تمام ریکارڈ لانے کی ہدایت کی ہے اور ان سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی لسٹ بھی طلب کی گئی ہے۔خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری پر اپنی ذاتی کمپنی کیلئے جعلی اکاؤنٹ سے ایک ارب 22 کروڑ روپے نکلوانے کا الزام ہے۔یاد رہے کہ اس حوالے سے بلاول بھٹو کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ اس وقت بچے تھے تاہم آڈٹ رپورٹ میں ان کے دستخط موجود ہیں۔علاوہ ازیں نیب نے آڈٹ رپورٹ اور بلاول بھٹو کے دستخط شدہ دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔خیال رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دی تھی۔نیب کی جانب سے مختلف کیسز میں بلاول بھٹو کو چوتھی مرتبہ طلب کیا گیا ہے تاہم وہ اب تک صرف ایک بار پیش ہوئے ہیں۔دوسری جانب سینیٹر شیری رحمن نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کو نیب طلبی کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوٹس مارچ میں احتجاج کے اعلان کا ردعمل ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ جیسے ہی بلاول بھٹو حکومت کے خلاف کوئی اعلان کرتے ہیں، نیب نوٹس بھیج دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نیب کی ڈوریں ہلاکر سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنارہی ہے، بلاول بھٹو زرداری ملک کے بہادر لیڈر ہیں، وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں۔پیپلزپارٹی کی رہنما نے کہا کہ نیب کے پیچھے چھپنے سے عمران خان بچ نہیں سکتے۔اس سے قبل نیب راولپنڈی نے بلاول بھٹو زرداری کو 24 دسمبر طلب کیا تھا، بلاول کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کا نوٹس موصول ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب چیف جسٹس بھری عدالت میں کہہ چکے ہیں کہ بلاول بھٹو بے قصور ہیں تو نیب کا نوٹس بھیجنا انہیں ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ نیب نے انہیں 24 دسمبر کو طلبی کا نوٹس بھیجا ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.