اہم خبریںبلوچستان

کوئٹہ کی 22لاکھ کی آبادی شدید سردی میں بغیر گیس کے زندگی گزارنے پر مجبور ہے،ملک سکندر خان ایڈووکیٹ

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ صوبے سے نکلنے والی گیس مانگنے کے لئے احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں، کوئٹہ کی 22لاکھ کی آبادی شدید سردی میں بغیر گیس کے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، 9جنوری کو یقین دہانی کروائی گئی کہ 20جنوری تک پریشر بحال کردیا گیا لیکن پریشر بحال نہیں کیا گیا، مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینگے یہ بات بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرملک سکندر خان ایڈوکیٹ،پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئر مین اختر حسین لانگو، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زیرے، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل، جمعیت علماء اسلام کے اصغر علی ترین ، پی ٹی آئی کے مبین خلجی، بی این پی کے احمد نواز بلوچ، ٹائٹس جانسن نے منگل کو سوئی سدرن گیس کمپنی کوئٹہ کے دفتر کے باہر گیس پریشر میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، ارکان صوبائی اسمبلی نے سوئی گیس دفتر کے باہر دھرنا بھی دیا، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج کا احتجاج کوئٹہ کے 22لاکھ عوام کا احتجاج ہے، 9 جنوری کو کوئٹہ کے ایم پی ایز نے گیس اور بجلی انتظامیہ سے مذاکرات کئے، گیس انتطامیہ کی جانب سے 20 جنوری تک گیس پریشر میں کمی کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، مذاکرات کے باوجود ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے، جب کوئٹہ کے عوام کو گیس نہیں ملے گی تو ہمیں گیس آفس کی کوئی ضرورت نہیں اس دفتر کو بند کردیا جائے ، انہوں نے کہا کہ شدید سردی میں کوئٹہ کے شہری احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی گیس پریشر بحال نہیں کیا گیا، حلقے کے عوام ہم سے شکوہ کرتے ہیں کہ گیس پریشر کیوں بحال نہیں ہورہاہم چاہتے ہیں شہر بھر میں گیس پریشر فی الفور بحال کیا جائے ، عوام کا شدید سردی میں گیس کی عدم فراہمی پر برا حال ہے،مقررین نے کہا کہ آج ہم نے سوئی گیس دفتر کے باہر عوام کے بنیادی حق کو حاصل کرنے کیلئے دھرنا دیا ہے، عوام کا بنیادی حق غضب کرنا ظلم ہے،آئین کہتا ہے کہ جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کے عوام کا اس پر سب سے پہلا حق اس پر ہوتا ہے لیکن بلوچستان کے لوگ اپنے ہی صوبے سے نکلنے والی گیس کے لئے اس حد تک مجبور ہوگئے ہیں کہ گیس دفتر کے باہر دھرنا دے رہے ہیں،انہوں نے واضع کیا کہ اگرگیس پریشر بحال نہ کیا گیا تو اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینگے ،بعدازاں جنرل منیجر سو ئی سدرن گیس کمپنی بلوچستان مدنی صدیقی نے مظاہرین سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے بیر ونی د ر و ازے پرمذاکرات کئے انھوں نے بتایاکہ شہر میںریکارڈ برف باری کے بعد شدید سردی کی وجہ سے گیس کی طلب میں اضافہ ہو ا تھا اس لئے پریشر کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ہم نے بھی صورتحال کی سنگینی کا احساس کیا انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ دو سے تین روز میں گیس پریشر کا مسئلہ حل کردیا جائے گا ،جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی کی یقین دہانی کے بعد اراکین اسمبلی نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button