کمشنر نصیرآباد ڈویژن جاویداخترمحمودنے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے تک چھین سے نہیں بیٹھیں گے
نصیر آباد 31اکتوبر :۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن جاویداخترمحمودنے کہا ہے کہ پولیو کے خاتمے تک چھین سے نہیں بیٹھیں گے ہربچے کوپولیو کے قطرے نہ پلانے تک ٹیمیں بار باراس کے گھرجائیں تاکہ ہر بچے کو پولیوسے بچائوکے قطرے پلائے جائیں اس سلسلے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی جائے آج پورے ملک میں بڑی تعدادمیں پولیو کے مرض میں مبتلا بچے جواں ہوچکے ہیں مگر مہلک مرض نے انہیں اپنے پائوں پرکھڑے ہونے کابھی نہیں چھوڑا ہمیں ماضی کے مقابلے میں مزید موثراندازمیں پولیو مہم کوکامیاب بنانا ہوگا تمام تراقدامات ہونے کے باوجودمرض پرقابونہ پانا ہماری کسی کوتاہی کی نشاندہی کرتاہے ہمیں اپنی خامیوں کو ختم کرکے مزید موثربہتراندازمیں کام ناہو گا۔ مانیٹرنگ کمیٹی باریک بینی سے کام کرے اورمائیکروپلان کے مطابق کام کے اصول اپنائے جائیںتب ہم کامیابی سے سرشارہوسکتے ہیں نصیرآباد ڈویژن پہلے سے ذیادہ بہتر اندازمیں پولیو کے خاتمے کیلئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔ ان خیا لات کا اظہارانہوںنے پولیو ٹاسک فورس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنرنصیرآبادظفرعلی ایم شہی،ڈپٹی کمشنر جعفرآبادآغاشیرزمان خان،ڈپٹی کمشنر صحبت پورمحمد یونس سنجرانی،ڈپٹی کمشنر جھل مگسی شرجیل نور،ڈبلیوایچ اوکے ڈویژنل کوآرڈینٹرڈاکٹرمحمدرفیق گھنیو،ڈویژنل ڈائریکٹرہیلتھ ڈاکٹر حماداللہ زہری،ڈی ایچ اوزڈاکٹرعبدالمنان لاکٹی،ڈاکٹرقدرت اللہ جمالی ،ڈاکٹر علی اکبر کھوسہ،ہری داس،ڈاکٹر ایازحسین جمالی سمیت دیگر شریک تھے اجلاس کو ڈبلیوایچ اوکے ڈویژنل کوآرڈینٹرڈاکٹرمحمدرفیق گھنیونے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ04نومبرسے تین روزہ پولیومہم نصیرآبادڈویژن میں تین لاکھ چھترہزارچارسوچوہتر(376474) بچوں کوپولیوسے بچائو کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے نوسوچراسی موبائل ٹیمیں،نوے فکسڈ سنٹرز ستاسی ٹرانزٹ پوائنٹ،سات بارڈرپوائنٹ،جبکہ 1207ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں انہوںنے کہاکہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے تمام ڈی ایچ اوز کوڈپٹی کمشنرزسے رابطے میں رہنے کی اشدضرورت ہے تاکہ پولیومہم کے سلسلے میں درپیش مسائل کے متعلق انہیں آگاہی فراہم ہوسکے صوبے کے ٹھنڈے علاقوں سے گرم علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے والے افرادکے بچوں کو پولیو کے مرض سے پاک بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ نصیرآباد ڈویژن میں داخل ہونے سے پہلے پولیو کے قطرے پینے سے نہ رہ جائیں۔