کردار ہی فاتح ہوتا ہے
تحریر: الطاف ابڑو
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور — ایک ایسا علمی و فکری ادارہ، جہاں نسل در نسل علم، شعور اور سچائی کے چراغ روشن کیے جاتے رہے ہیں — ایک اور تاریخی لمحے کا گواہ بنی ہے۔ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ ایک باوقار اور اہم فورم ہے، جس میں یونیورسٹی کے پروفیسرز، سینئر کالج پرنسپلز، ججز، سیاسی جماعتوں کے نمائندگان (ایم پی ایز) اور یونیورسٹی کے ایک افسر کو بھی نمائندگی دی جاتی ہے۔
30 جولائی 2025 کو افسران کی تنظیم کے تحت اس سیٹ کے لیے انتخاب منعقد ہوا، جو محض ایک الیکشن نہیں بلکہ فہم، فرض شناسی اور دیانت داری کی جیت کا ایک روشن باب بن گیا۔
اس اہم لمحے میں جس نام نے ستارے کی مانند چمک دکھائی، وہ تھا عمران علی سومرو — شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کا باوقار افسر، خلوص، فکر اور خدمت کا پیکر، جو اب سینڈیکیٹ کا رکن منتخب ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ 2018ء میں وائس چانسلر ڈاکٹر پروین شاہ کے دور میں سندھ اسمبلی سے ایک قانون سازی منظور کی گئی، جس کے تحت سرکاری جامعات میں افسران کے لیے بھی سینڈیکیٹ کی ایک نشست مخصوص کی گئی۔ اس قانون کے تحت غلام مصطفیٰ شیخ پہلے نمائندہ منتخب ہوئے، بعد ازاں فرحان لطیف میمن نے ذمہ داری سنبھالی، اور اب تیسری مرتبہ عمران علی سومرو اس عہدے پر بلامقابلہ نہیں بلکہ ساتھیوں کے بھروسے اور حمایت سے کامیاب ہوئے ہیں۔
انتخابات ہمیشہ مقابلہ، حکمت عملی اور اعصاب کی آزمائش ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایسے انتخاب بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں جہاں صرف ووٹ نہیں بلکہ ادارہ، نظریہ اور ایک نیا امیدافزا راستہ جیتتا ہے۔
یہی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا، جب عمران علی سومرو نے 112 ووٹ حاصل کرکے اپنے مد مقابل عامر وسیم پٹھان (جنہیں صرف 52 ووٹ ملے) کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔
یہ جیت صرف اعداد و شمار کی نہیں تھی — یہ اصول، وژن، اور سچائی کے ساتھ مسلسل جدوجہد کی جیت تھی۔ یہ جیت اس یقین کی تھی، جو عمران علی سومرو کی فکری سوچ، پیشہ ورانہ انداز اور ادارے کے لیے بے لوث خدمات سے جھلکتا ہے۔
سومرو صاحب کی علم دوستی، نرم گفتاری، اور ساتھیوں کی فلاح کے لیے اُن کی سوچ نہ صرف ووٹوں میں ظاہر ہوئی بلکہ سنجیدہ اہلِ دانش کے دلوں سے نکلی ہوئی دعاؤں اور نیک تمناؤں میں بھی جھلکی۔
یہ کامیابی دراصل اس ادارے کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہے — جہاں صرف نمائندگی نہیں بلکہ مؤثر قیادت بھی میسر ہو گی۔ عمران علی سومرو نہ صرف یونیورسٹی کے افسران کی آواز ہیں، بلکہ وہ ایک سوچ، ایک تحریک، اور ایک امید کا نام ہیں، جو اداروں کو نئی راہ دکھا سکتے ہیں۔
یونیورسٹی کے علمی، ادبی، اور انتظامی حلقوں نے دل کی گہرائیوں سے عمران علی سومرو کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ یہ جیت صرف افسران کا وقار نہیں، بلکہ ادارے کے مستقبل کی ایک روشن جھلک بھی ہے۔
اور جیسے ہر مقابلے میں کامیاب ٹیم کا جشن منایا جاتا ہے، ویسے ہی آج شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے انتخابی میدان سے خوشیوں کی صدائیں بلند ہیں — اور اُن صداؤں میں جو نام سب سے زیادہ گونج رہا ہے، وہ ہےعمران علی سومرو!
Comments are closed.