اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے

21

کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے صو بائی کنو ینئر بلوچستان سید امان شاہ، نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک خصوصاً بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں صنعتی، زرعی اور کاروباری سرگرمیوں کو پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا ہےاور بلند شرح سود اس صورتحال کو مزید ابتر بنا رہی ہے۔سید امان شاہ نے کہا کہ جب مہنگائی کی شرح (CPI) 3.20 فیصد تک گر چکی ہے تو شرح سود کو بدستور 11 فیصد رکھنا کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔ یہ فرق کاروباری لاگت میں اضافے، قرض گیری کی راہ میں رکاوٹ اور مجموعی طور پر نجی شعبے کی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام پاکستان پارٹی کی جانب سے واضح مطالبہ ہے کہ پالیسی ریٹ میں کم از کم 600 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہو، کاروباروں کو سہولت ملے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔سید امان شاہ نے کہا کہ بلوچستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پہلے ہی مالیاتی رسائی اور انفراسٹرکچر کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں، بلند شرح سود ان کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ پالیسی پر نظرِ ثانی کی جائے اور معاشی حالات سے ہم آہنگ فیصلہ کیا جائے تاکہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہموار ہو۔

جاری کردہ
ترجمان عوام پاکستان پارٹی۔بلوچستان

Comments are closed.