وفاقی حکومت کا گلگت بلتستان میں ٹیکس مسائل کے حل کے لیے بڑا اقدام
اسلام آباد/گلگت
وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام اور تاجر برادری کے ٹیکس سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی وفاقی وزیرِ ریونیو ڈویژن/چیئرمین ایف بی آر کی ہدایت پر بنائی گئی ہے جو گلگت بلتستان کے راستے سوست کے ذریعے درآمد ہونے والی اشیاء پر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے متعلق عوامی تحفظات کا جائزہ لے گی۔
کمیٹی میں ممبر کسٹمز (آپریشنز) ایف بی آر کو کنوینئر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ممبر آئی آر (پالیسی) ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ اینڈ اینالسس) ایف بی آر، سیکرٹری فنانس ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان، چیف کلیکٹر (نارتھ)، اور چیف آئی آر (پالیسی) ایف بی آر اس کے رکن ہوں گے۔کمیٹی سوست کے ذریعے درآمد کی جانے والی اشیاء پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے عوامی خدشات کا جائزہ لے گی، اور اگر کوئی استثنیٰ دستیاب ہو تو اُس پر شفاف عملدرآمد کا نظام وضع کرے گی۔ یہ کمیٹی ایسے سامان کی نشاندہی اور کوڈز بھی طے کرے گی جو صرف گلگت بلتستان میں کھپت کے لیے درکار ہوں، اور کسی بھی ممکنہ استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرے گی۔بیگیج کلیئرنس کے لیے سوست پر مناسب نظام کی تیاری، خنجراب پاس پر نگرانی اور نفاذ کے اقدامات، اور گلگت بلتستان حکومت کی مشاورت سے محصولات کی وصولی کے متبادل طریقہ کار پر بھی غور کیا جائے گا۔ کمیٹی کو سات دن کے اندر قابلِ عمل تجاویز پر مشتمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس حوالے سے معاون خصوصی برائے اطلاعات گلگت بلتستان، ایمان شاہ نے کہا ہے کہ ووفاقی حکومت کی جانب سے اس اہم مسئلے پر فوری ردِ عمل خوش آئند ہے۔ تاجر برادری کے جائز مطالبات کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت اس کمیٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام عوامی اعتماد کو بحال کرے گا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔
Comments are closed.