افغان لڑکی کو مبینہ اغواء کے ملزم طیب کی درخواست ضمانت ،سپریم کورٹ کا لڑکی کا بیان مرد پولیس تفتیشی افسر کے ریکارڈ کرنے پر برہمی کا اظہار

0 35

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے افغان لڑکی کو مبینہ اغواء کے ملزم طیب کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دور ان لڑکی کا بیان مرد پولیس تفتیشی افسر کے ریکارڈ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے خواتین کے معاملات میں لیڈی پولیس افسران کو شامل کرنے کی ہدایت کی ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دور ان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ لڑکی لال ہجا کا بیان خاتون پولیس نے ریکارڈ کیوں نہیں کیا؟لڑکی کا چہرہ مرد تفتیشی نے دیکھا۔ انہوںنے کہاکہ کیا خواتین کیساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے،بیان ریکارڈ کرنے کے لیے لیڈی پولیس کیوں نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد صاحب ہم آپ پر برہم نہیں،ہم ریاست کے لڑکی کیساتھ سلوک پر برہم ہیں۔جسٹس قاضی امین نے کہاکہ یہ لڑکی ہماری بیٹی کیطرح ہے،مستقبل میں ایسی خامیاں نہیں ہونی چاہیے۔ وکیل ملزم عائشہ تبسم نے کہاکہ لڑکی نے ملزم کیساتھ شادی کی۔وکیل ملزم نے کہاکہ لڑکی کے والدین نے اغواء کا پرچہ کرادیا۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ مقدمہ ماڈل کورٹ میں چل رہا ہے،دس سے پندرہ دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا۔ وکیل ملزم نے کہاکہ اے جی کی ٹرائل جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی پر درخواست ضمانت واپس لے لیتی ہوں؎ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کی خواتین کے معاملات میں لیڈی پولیس افسران کو شامل کرنے کی ہدایت کی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.