امید ہے ممبرز کی تعیناتی کا مسئلہ حکومت اور اپوزیشن جلد حل کر لیں گے،سیکرٹری الیکشن کمیشن
اسلام آباد: سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا ہے کہ امید ہے ممبرز کی تعیناتی کا مسئلہ حکومت اور اپوزیشن جلد حل کر لیں گے،مقامی حکومتوں کے الیکشن بھی نہیں ہو پا رہے،الیکشن کمیشن بلدیاتی الیکشن کیلئے پوری طرح تیار ہے،الیکشن کمیشن کو ایکٹ میں خودمختار بنایا گیا ہے،حکومتی اداروں میں الیکشن کمیشن کی خودمختاری کو پسند نہیں کیا جاتا،خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن اور نادرا ملکر کام کر رہے ہیں،سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین ووٹرز سے متعلق تعاون کا فقدان ہے۔جمعہ کو انتخابی اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی تیاری کا حصہ رہا،تمام سیاسی جماعتوں نے ایکٹ کی تیاری میں بہترین کردار ادا کیا ،الیکشن ایکٹ 2017 بھی حرف آخر نہیں اس میں بھی آپریشنل ایشوز موجود ہیں،الیکشن کمیشن کو ایکٹ میں خودمختار بنایا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں میں الیکشن کمیشن کی خودمختاری کو پسند نہیں کیا جاتا،سیاسی جماعتوں کے تعاون سے اس مسئلے کو حل کریں گے،الیکشن 2018 میں ریٹرننگ افسران کیلئے ایک ہزار کمپیوٹر جاپانی حکومت نیدیئے،الیکشن رپورٹ کا جائزہ لیکر پارلیمنٹ کو سفارشات پیش کر دی ہیں،30 اضلاع میں عوام اور میڈیا سے مشاورت کرکے سفارشات تیار کی ہیں،پہلی بار خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے والوں پر سختی کی گئی،شانگلہ میں دس فیصد سے کم خواتین ووٹ پول ہونے پر دوبارہ الیکشن کرایا گیا،فاٹا الیکشن میں خواتین ووٹرز نے بھرپور حصہ لیا جو سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن کی کامیابی ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن اتنا میچور ہو چکا ہے کہ فافن کی آبزرویشن اور تنقید پر اسے اپنا پارٹنر سمجھتا ہے،فافن کی سفارشات پر الیکشن کمیشن میں باقاعدہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہوا ہے،آبادی کے تناسب کے حوالے سے نمائندگی پر غور کرنا چاہیے ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے درخواست کروں گا ہم سے تعاون کریں ،سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ خواتین کی رجسٹریشن یقینی بنائیں،الیکشن 2018 سے پہلے 43 لاکھ خواتین ووٹرز کو رجسٹر کیا گیا،خدشہ ہے کہ غیر رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد بڑھ نہ جائے،خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کیلئے الیکشن کمیشن اور نادرا ملکر کام کر رہے ہیں،سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین ووٹرز سے متعلق تعاون کا فقدان ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ معذور ووٹرز کی سہولت کیلئے ہدایت کی جاتی ہے کہ پولنگ سٹیشن گرائونڈ فلور پر ہو،راولپنڈی میں ایک معذور امیدوار سے ریٹرننگ افسر نے نیچے آ کر کاغذات لینا بھی گنوارا نہیں کیا ،ہر الیکشن میں استعمال ہونے والے پولنگ سٹیشن اب مستقل بن چکے ہیں ،چاروں وزرائے اعلی کو الیکشن سے پہلے سکولوں میں بجلی اور سہولیات دینے کا لکھا ،بار بار چیف سیکرٹریز کو بلا کر کہا لیکن افسوس کہ کوئی بہتری نہیں ہوئی،وزرائے اعلی سے کہا آپکے سکول اور ہمارے پولنگ سٹیشن سہولیات ملنے سے ٹھیک ہو جائیں گے،سہولیات نہیں ہونگی تو خواتین اور معذور افراد ووٹ ڈالنے نہیں جائیں گے،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ امید ہے ممبرز کی تعیناتی کا مسئلہ حکومت اور اپوزیشن جلد حل کر لیں گے،مقامی حکومتوں کے الیکشن بھی نہیں ہو پا رہے ،15 دسمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کی مدت ختم ہو رہی ہے،ایک صوبے میں دس ماہ سے بلدیاتی الیکشن پر حکم امتناع ہے،الیکشن کمیشن بلدیاتی الیکشن کیلئے پوری طرح تیار ہے