آزادی اسلئے نہیں لی کہ ہمارے وطن کے چوکیدار ہمیں ماریں ، نواب ایاز جوگیزئی

0 40

کوئٹہ :  پشتون اولس جرگہ کے کنوینئر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ ہم نے آزادی اس لئے نہیں لیا تھاکہ ہمارے وطن کے چوکیدار ہمیں مارے اپنے جائز مطالبات منوانے اور پشتون قوم کی بقاء کیلئے احتجاجی دھرنے سے یا تو میری لاش جائے گی یا تو میں سرخرو ہونگا سانحہ زیارت کے دلخراش واقعے کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا اور اس کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا ہم زندگی باعزت طریقے سے جینا چاہتے ہیں ان خیالات کا اظہار نواب ایاز خان جوگیزئی نے زیارت کراس پر احتجاجی دھرنے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جو دلخراش واقعہ زیارت کے مقام تنگی ڈیم میں پیش آیا تھا لیویز کے تین افراد نے جام شہادت نوش کیا اور یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اب تو ہر ہفتے ہمارے وطن میں نوجوان،سیاسی ورکر،لیویز اہلکار اور بے گناہ افراد مارے جارہے ہیں ہم شہداء کے ہمراہ میدان میں نکلے ہیں اب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہونگے اگر اس میں بھی ہم ناکام ہوئے تواس ملک اور قوم کا نام ہمیشہ کیلئے دفن ہوجائے گا اس وطن کیلئے ہمارے نوجوانوں بزرگوں اور قائدین نے خون کی قربانیاں دی ہے کیا ہم نے آزادی اس لئے لیا تھاکہ ہمارے وطن کے چوکیدار ہمیں مارے یہ آزاد وطن نہیں ہے صرف ہمارا خیال ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دھماکے، اغواکاری کرنے والوں کو جنرل میڈل پہنارہے ہیں اور ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہے ہم زندگی باعزت طریقے سے اس وطن میں جینا چاہتے ہیں نہ کہ بے غیرتی اور کمزوری کی زندگی نہ خود گزاریں گے اورنہ ہی آنے والی نسل گزاریں گے میں آنے والی نسل اور سیاسی جماعتوں تمام قبائلی قائدین کو پیغام دینا چاہتا ہوں اگر اپنی وجود کو اس سرزمین میں عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں میں نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ اس چوک پر دھرنے کے شرکاء کے ساتھ بیٹھا ہوں اور تمام پشتون اقوام سیاسی جماعتوں کو بھی پیغام دیتا ہوں کہ اس سانحہ زیارت کو آسانی سے نہیں چھوڑوں گا اس کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا لہذا جنوبی پشتونخوا کے تمام ضلعی کارکنان چاہئے شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو اور ہم نے متحد ہوکر اس وطن کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے جائز مطالبات منوانے اور پشتون قوم کی بقا ء کیلئے دھرنا جاری رہے گا یہاں سے تو میری لاش جائے گی یا میں سرخرو ہوکر اپنے پاؤں پر چلا جاؤں گا اور یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.