
اسلام آباد (این این آئی) متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے آپ اور دوستوں کو بچانے کیلئے نیب آرڈیننس2019 منظور کیا، اپوزیشن سینیٹ اور پارلیمنٹ میں اس آرڈیننس کا جائزہ لے گی، اس وقت ملک میں نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے ، حکومت مخالف بولنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، نیب کو متنازعہ بنانے کے بعد ایف آئی اے کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، ایف آئی اے کو استعمال کیا جارہا ہے، حکومت اتنا کرے جتنا خود برداشت کر سکے،سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں ،وزیر قانون کا رد عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ہفتہ کو متحدہ اپوزیشن جماعتوں کااجلاس کنوینئر کمیٹی اکرم خان درانی کی زیر صدارت ہوا جس میں مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار، پیپلزپارٹی کے فیصل کریم کنڈی اور ہمایوں خان رہبرکمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے، (ن )لیگ کے ایاز صادق، میاں افتخارحسین، عثمان کاکڑ، شفیق پسروری اور ہاشم بابر بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے اجلاس میں نیب کی جانب سے اپوزیشن اراکین کی گرفتاریوں کے متعلق مشاورت کی گئی، آرمی چیف کی ملازمت کی مدت میں توسیع اور پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے پر بھی گفتگو و شنید ہوئی۔تمام اپوزیشن ممبرز نے اجلاس میں اپنی اپنی پارٹی کا مؤقف پیش کیا اور فیصلہ کیا گیاکہ اجلاس میں کی گئی مشاورت سے اپنے اپنے قائدین کو اعتماد میں لیا جائیگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر، ممبران کے تقرر سے متعلق امور پر بھی مشاورت ہوئی۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہاکہ رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، اپوزیشن جماعتوں کے تمام ممبران شریک ہوئے ۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومت میں بجلی ہے نہ گیس ہے، حکومت میں ٹھنڈ ہی ٹھنڈ ہے البتہ ہم اپوزیشن کو گرم ماحول میں گرم کئے ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم غلامی نہیں آزادی کے حق میں ہیں، اسی لیے آزادی مارچ کے نام سے تحریک چلائی ،اس وقت زبان بندی ہے، میڈیا پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حال ہی میں رہبر کمیٹی کے ممبر احسن اقبال کی گرفتاری بھی حکومت مخالف بیان بازی پر ہوئی ،احسن اقبال کی گرفتاری صرف غیر ضابطگی کی ہے، سی پیک سمیت بڑے منصوبے بطور وزیر منصوبہ بندی بنائے ،ان پر الزام چھ ارب کا لگایا گیا جبکہ منصوبہ اڑھائی ارب تھا ۔ انہوںنے کہاکہ ایک سابق وزیراعظم شاہد خاقان کو پھانسی گھاٹ میں رکھا گیا، ہم ان کے حوصلے کو سلام کرتے ہیں ،شاہد خاقان عباسی نے ضمانتی درخواست تک دینے کی مخالفت کردی ہے،نیب نیازی گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ہے ،اب بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نوٹس جاری کردیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ سابق چیف جسٹس نے یہاں تک پوچھا تھا کہ کس نے بلاول کا نام ڈالا؟ انکی مداخلت پر نام نکالا گیا تھا ،اب پھر اسی مقدمے میں بلاول کو دوبارہ نوٹس بھجوا دیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ نیب آرڈیننس کی گزشتہ روز منظوری دی گئی ہے، ہواؤں کے رخ بدلنے پر ترمیمی آرڈیننس لایا گیا ،سینیٹ کمیٹی نے نیب بل متفقہ طور پر منظور ہوا ہے لیکن حکومت نے اجلاس ساڑھے تین ماہ سے نہیں بلایا جارہا ۔ انہوںنے کہاکہ اپنے دوستوں کو بچانے کے لیے وزیراعظم نیب آرڈیننس کا سہارا لے رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جو نیب کے حوالے سے آرڈیننس آیا ہے اس پر وزیراعظم نے اپنے بندوں کو کہا ہے کہ آپ کی اب بچت ہوجائے گی،انہوںنے کہاکہ حکومت نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جس سے پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کی توقیری نہ کی ہو ۔ انہوںنے کہاکہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد کی صورتحال سامنے ہے، عدلیہ کے فیصلوں کا احترام لازم ہے،رانا ثناء اللہ کی رہائی اور کیس کے حوالے سے سب کچھ واضح ہوگیا کہ یہ گرفتاری سیاسی بنیادوں پر ہوئی۔اکرم درانی نے کہاکہ اب نیب کے بعد ایف آئی اے کو متحرک کردیا گیا ہے، واجد ضیاء کو گرفتاریوں کا ٹاسک دیا گیا ہے ،آپ ملک کو کدھر لے کر جارہے ہیں؟ سارے اداروں کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ،اگر حکومت ایسا طریقہ اختیار کریگی تو یہ نیک شگون نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملائیشیا سمٹ اردوان، مہاتیر محمد اور عمران خان کے متفقہ فیصلے پر بلایا گیا ۔ انہوکںنے کہاکہ اپوزیشن آج بھی ایران، ملائیشیا اور ترکی کے کشمیر کے حوالے سے ووٹ دینے پر شکر گزار ہیں ،حکومت کہتی ہے کہ آزادی مارچ نے کشمیر سبوتاژکیا، یہ سودا تو خود حکومت کرچکی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جن دوستوں نے ہمیں سپورٹ کیا ہے انہیں کے پاس ہم نہیں جارہے اور انہیں ناراض کردیا ۔ انہوںنے کہاکہ پشاور ہائیکورٹ نے بی آر ٹی بارے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا ہے ،اب حکومت سپریم کورٹ سے اس پر حکم امتناعی حاصل کررہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی اپنی کرپشن سامنے آرہی تو یہ سٹے پر جا رہی ہے ،ہم کہتے ہیں بی آر ٹی کے حوالے سے عدالتیں سٹے نہ دیں۔ انہوںنے کہاکہ نیب چیئرمین بتائیں کیا مالم جبہ اور بلین ٹری پر بھی سٹے ہے؟ اس طرف کیوں اقدام نہیں اٹھایا جاتا ؟صوبائی حکومت نے اپنی چوری چھپانے کیلئے درختوں کو آگ لگا دی گئی ،ایجوکیشن کے 25 ارب روپے کا کیس ہے، خود ایجوکیشن فاؤنڈیشن ڈائریکٹر اس کا انکشاف کرچکا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کے ساتھ موجودہ حکومت مختلف ذرائع سے تنگ کررہی ہے، خیال کریں آپ نئے ہیں کل آپ کو یہ بھگتنا پڑیگا۔ انہوکںنے کہاکہ حکومت فارن فنڈنگ کیس کو طول دینے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کیلئے فوری حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل افراد پر میٹنگ بلائی جائے۔ ایاز صادق نے کہاکہ مشرف کا فیصلہ عدالتی فیصلہ ہے، جسے تسلیم کرتے ہیں،وزیر قانون کا رد عمل توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے عدالتی فیصلہ تسلیم کیا، حکومت بھی تسلیم کرے، کوئی تحفظات ہیں تو اس کے فورم موجود ہے۔ انہوںنے کہاکہ مشرف کیس میں حکومت پاکستان شکایت کنندہ تھی تب مسلم لیگ ن تھی اور اب پی ٹی آئی ہے۔




