حکومت سندھ کے ترجمان گنہور خان اسران نے  جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان  پریس کانفرنس پر ردعمل  کا اظہار

30

کراچی 28 جولائی۔ حکومت سندھ کے ترجمان گنہور خان اسران نے  جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان  پریس کانفرنس پر ردعمل  کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  جماعت اسلامی کا وطیرہ ہی الزام تراشی ، نفرت، جھوٹ اور منافقت ہے،   جماعت اسلامی  کے   پاس نہ کوئی ترقیاتی منصوبہ ہے، نہ ویژن، صرف گمراہ کن بیانات اور الزام ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے خود اپنے علاقوں میں عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہیں،    جو جماعت اپنے بلدیاتی ٹاؤنز کا نظام درست نہیں رکھ سکتی، وہ پورے کراچی پر تنقید کا کوئی اخلاقی یا سیاسی حق نہیں رکھتی۔ حکومت سندھ کے ترجمان گنہور خان اسران نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت کراچی کے 9 اہم ٹاؤنز میں برسرِ اقتدار ہے،     اربوں روپے کا بجٹ جماعت اسلامی کے  ٹاؤن چیئرمینز کو دیا گیا،  لیکن ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، لانڈھی، جناح ٹاؤن،  لیاقت آباد، گلبرگ، ماڈل ٹاؤن اور نیو کراچی  میں گٹر  اُبل رہے ہیں،  عوام جماعت اسلامی سے اربوں روپوں کے بجٹ کا حساب مانگتی تو ڈھٹائی سے حکومت سندھ پر الزام ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں جماعت کے ٹاؤن چیئرمین ہیں وہاں گندگی، ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، خراب اسٹریٹ لائٹس اور صفائی ستھرائی کا مکمل فقدان عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ ترجمان  سندھ حکومت گنہور خان اسران نے کہا کہ کے فور منصوبے کی فزیبلٹی جماعت اسلامی کے  ناظم نعمت اللہ خان دور میں ناقص انداز میں بنائی گئی، جس کی قیمت آج سندھ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے،  پیپلز پارٹی نے  کے  فور منصوبے کو صوبائی حکومت کے تحت لے کر ازسرِ نو ڈیزائن کرایا ، اب تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  اجرک جیسے ثقافتی اثاثے کو ‘ڈرامہ’ قرار دینا نہ صرف سندھی عوام کی توہین  بلکہ جماعت اسلامی کی تعصب کو ظاہر کرتا ہے،  پیپلز پارٹی نے کراچی میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، اور انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے شروع کیے اور مکمل کیے،  عوام کو سمجھ آ چکی ہے کہ کراچی کی ترقی جماعت اسلامی کے نعروں سے نہیں، صرف پیپلز پارٹی کے وژن سے ممکن ہے۔

Comments are closed.