کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے تحت چوتھا سمر کیپ اختتام پزیر ہوگیا،
کراچی (اسپورٹس رپورٹر)
کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے تحت گزشتہ چار سال سے لگنے والا سمر کیمپ کے ایچ اے کی پہچان بن گیا ہے، اولمپئن حنیف خان و ڈاکٹر جنید علی شاہ اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے چوتھے سمر کیمپ کے اختتام پر ممبر قومی اسمبلی و صدر وومن ہاکی ونگ سندھ سیدہ شہلا رضا نے سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان منور علی مہسر، صدر کے ایچ اے سید امتیاز علی شاہ، صدر کے ایچ اے وومن ونگ ڈاکٹر اسماء علی شاہ، چیئرمین گلفراز خان، سینئر نائب صدور اعجاز الدین اور ڈاکٹر ایس ماجد سمیت دیگر کے ہمراہ بچوں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے، اختتامی تقریب کے موقع پر ممبر قومی اسمبلی و صدر وومن ہاکی ونگ سندھ سیدہ شہلا رضا کا کہنا تھا کہ مسلسل چار سال سے لگنے والے سمر کیمپ کی سب سے بڑی کامیابی والدین کا کیمپ کے انعقاد کا انتظار کرنا ہے، کے ایچ اے کا ماحول اور کھلاڑیوں کو دی جانے والی سہولیات ائیڈیل ہیں ۔ سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان حکومت سندھ منور علی مہسر نے کہا کہ کے ایچ اے کے سمر کیمپ نے ہاکی میں ایک نئی جان ڈال دی ہے، گراس روڈ پر ہاکی کا فروغ ہی قومی کھیل کی بحالی کا درست راستہ ہے۔ کے ایچ اے کے صدر سید امتیاز علی شاہ نے کہا کہ مشن ہاکی کی بحالی کے جذبے کے تحت لگنے والا سمر کیمپ نئی نسل کو ہاکی کی جانب راغب کرنے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، کیمپ میں 4 سے 20 سال تک کی عمر کے 400 سے زیادہ بچوں کا شریک ہونا خوش آئند ہے، کے ایچ اے سمر کیمپ کے ساتھ ونٹر کیمپ کا بھی انعقاد کرتا ہے، اولمپئن کلیم اللہ کا کہنا تھا کہ کیمپ میں شریک بچوں کا اپنے مینٹورز اولمپئنز افتخارسید، حنیف خان، ناصرعلی، ایاز محموداور وسیم فیروز سمیت انٹرنیشنل کھلاڑیوں و کوچز سے ہاکی کے گر سیکھنا قومی کھیل کے روشن مستقبل کا ضامن ہے جبکہ ان قابل فخر اولمپئنز کا سمر کیمپ میں اپنی خدمات مفت فراہم کرنا ان کے جذبے کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کے ایچ اے کی چھتری تلے اولمپئنز ہاکی کی بے لوث خدمت کررہے ہیں جبکہ اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر کیمپ میں شریک بچوں کی رہنمائی کرنا اولمپئن فرحت خان کا قابل قدر اقدام ہے،اختتامی تقریب کے موقع پر والدین نے گزشتہ چار سال سے لگنے والے سمر کیمپ کو قومی کھیل کو نئی نسل میں منتقلی کا درست راستہ قرار دیا، والدین نے کے ایچ اے کی جانب سے دی جانے والی سہولتوں اور ماحول کی بھی تعریف کی۔۔۔۔۔
Comments are closed.