
کوئٹہ : بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس جناب جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل 2رکنی بینچ کے روبرو سوئی سدرن گیس کمپنی کے چارجز سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار و سینئر قانون دان سید نذیر آغا ایڈووکیٹ ، سوئی سدرن گیس کمپنی کے وکیل کاشف عباس اور بلنگ منیجر محمد کامران ، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان محمد آصف ریکی و دیگر پیش ہوئے ۔ سماعت شروع ہوئی تو سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے Otherچارجز سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی اور استدعا کی گئی کہ کمپنی کو مذکورہ چارجز بھیجنے کی اجازت دی جائے تاہم بینچ نے Otherچارجز سے متعلق ووکیشن جج کے دیئے گئے حکم کو 10مارچ تک برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔ واضح رہے سینئر قانون دان سید نذیرآغا ایڈووکیٹ ، سلطانہ ثروت ایڈووکیٹ اور فرزانہ خلجی ایڈووکیٹ کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے پی یو جی /سلو میٹر چارجز و دیگر سے متعلق آئینی درخواست دائرکی گئی تھی جس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے مذکورہ چارجز صارفین کو بلوں میں بھیجنا غیر قانونی قرار دیا تھا تاہم بعد ازاں سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت میں کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی کہ کمپنی کی جانب سے پی یو جی /سلو میٹر چارجز سے روکے جانے کے بعد صارفین کو Otherچارجز کے نام پر نئے چارجز بھیجے جارہے ہیں جو غیر قانونی ہیں ، جس پر عدالت کے ووکیشن جج نے کمپنی کو مذکورہ چارجز صارفین کو بھیجنے سے روکا تھا جبکہ کمپنی کی جانب سے Otherچارجز بھیجے جانے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے رد کیا تھا ۔ 10مارچ کو Otherچارجز سے متعلق فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل دیئے جائیں گے ۔



