اہم خبریںبین الاقوامی

مودی کے بنگلہ دیش پہنچتے ہی ہنگامے ،فائرنگ ،4جاں بحق

ڈھاکا :  2 صحافیوں سمیت درجنوں زخمی ہو گئے ۔ ہلاکتیں چٹاگانگ میں ہوئیں، جہاں مقامی مدرسے کے سینکڑوں طلبہ نماز جمعہ کے بعد وزیراعظم مودی اور بنگلہ دیش حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے ، ایک تھانے پر پتھراؤ کے علاوہ سرکاری دفاتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، قومی پرچم پھاڑ دیا، انہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں نے علاوہ براہ راست فائرنگ بھی کی۔حفاظت اسلام کے سیکرٹری اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان کے رہنماؤں اور کارکنوں پر براہ راست فائرنگ کی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق 8 افراد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا،جن میں چار دم توڑ گئے ۔ ادھر دارالحکومت ڈھاکا کی مرکزی جامع مسجد سے سینکڑوں افراد وزیراعظم مودی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے نکلے شہریوں نے قاتل مودی واپس بھارت جاؤ کے نعرے لگائے ۔تاہم پولیس انہیں آگے بڑھنے روک دیاجس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی،پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ،جواب میں مظاہرین نے پتھراؤ شروع کر دیا ، اس پر پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق ہیلمٹ پہنے عوامی لیگ کے سٹوڈنٹ ونگ کے گروپ نے بھی مظاہرین پر حملے کئے ۔ ڈھاکا میں پولیس سے جھڑپوں میں دو صحافیوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ 33 افراد کو کشیدگی پھیلانے پر گرفتار کرلیا ہے ۔واضح رہے کہ نریندر مودی دو روزہ دورے پر ڈھاکا پہنچے ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے وقت میری عمر 20، 22 سال رہی ہو گی، میں نے اس وقت گرفتاری بھی دی تھی اور جیل جانے کا موقع بھی آیا تھا ۔ بنگلہ دیش کی آزادی کی جتنی تڑپ اِدھر تھی اتنی ہی بھارت میں بھی تھی۔۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے ساتھ کچھ ایسے فوجی بھی آئے ہیں جنہوں نے اس وقت کی جنگ میں حصہ لیا تھا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button