چین میں کروناوائرس کے انسانی حملے کے بعد لسبیلہ،گوادر اور چاغی میں الرٹ جاری

0 29

اوتھل(این این آئی) چین میں کروناوائرس کے انسانی حملے کے بعد لسبیلہ،گوادر اور چاغی میں الرٹ جاری،پی پی ایچ آئی لسبیلہ نے کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظرتمام بنیادی مراکز صحت اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کروناوائرس سے متعلق آگاہی مہم کا انعقاد شروع کردیا،چینی باشندوں کی آمدورفت کے باعث لسبیلہ ،گوادر اور چاغی میں کروناوائرس پھیلنے کا شدید خطرہ،لوگوں میں بے یقینی کی کیفیت پیداہوگئی،تفصیلات کے مطابق چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے،یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کاسبب بن سکتا ہے اور اب تک چین سمیت دنیابھر میں 56 سے زائد افراد اس وائرس سے زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیںچین نے تصدیق کی ہے کہ اب یہ وائرس انسانوں سے ہی دوسرے انسانوں میں پھیل رہا ہے قمری سال کی چھٹیوں کے دوران چونکہ لوگ چین سے مختلف ممالک جاتے ہیں اس لیے دنیا بھر میں اس وائرس کی وباء کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اوراسی خدشے کے پیش نظر پی پی ایچ آئی لسبیلہ اپنے سوشل آرگنائزراور ڈاکٹروں کے توسط سے بنیادی مراکز صحت اور اس سے ملحقہ کمیونٹی میں کرونا وائرس سے متعلق آگاہی سیشن کا انعقاد کرنے کا آغاز کررہی ہے تاکہ عوام کو اس وائرس سے متعلق آگاہی ہوا پی پی ایچ آئی لسبیلہ کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجرریحان حمید بلوچ نے اوتھل کے صحافیوں کو کرونا وائرس کی علامات، احتیاطی تدابیر اور علاج سے متعلق بتایا کہ کرونا وائرس کی علامات میںکھانسی،گلے کی سوجن،ناک بہنا اور بخار سمیت متعدد علامات کرونا وائرس کا سبب بن سکتی ہیںجبکہ ہلکی علامات میں عام سردی شامل ہے،تاہم نمونیا کی صورت میں یہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے یہ وائرس عام طور پر متاثرہ شخص سے براہ راست رابطے کے ذریعے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے،کرونا وائرس جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے انہوںنے کرونا وائرس پھیلنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہاکہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے جسے سائنسدان زونوٹک کہتے ہیں یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے یہ وائرس متاثرہ شخص کے کسی چیزکوچھونے سے بھی پھیلتاہے اورجب دوسرا شخص اس چیز کو چھوکر اپنے منہ یا ناک کو ہاتھ لگائے تو اس تک منتقل ہو جاتا ہے ریحان حمید بلوچ نے اس وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیربتاتے ہوئے کہاکہ ابھی تک اس وائرس سے بچنے کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے،بیمار لوگوں سے بچ کر انفیکشن ہونے کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اگر خدانخواستہ کوئی اس بیماری کا شکار ہوجائے تومتاثرہ شخص گھر میں ہی رہے اور دوسروں سے دور رہے کھانسی یا چھینک آنے پر اپنے منہ اور ناک کو کپڑے سے ڈھانپ لے انہوںنے کروناوائر س کے علاج کے سوال پر بتایاکہ اس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے ،زیادہ تر اس کی علامات خود ہی دور ہوجاتی ہیںڈاکٹرز درد یا بخار کی دوائی لکھ کر علامات کو دور کرسکتے ہیںامریکی ادارہ برائے صحت سی ڈی سی کیمطابق کمرے میں ہیمڈیفائر یا گرم شاور گلے کی سوزش یا کھانسی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے واضح رہے کہ لسبیلہ کے علاقے ددر پروجیکٹ،گوادر اور چاغی میں چینی باشندوں کی آمدورفت زیادہ ہے اسی وجہ سے حکومت بلوچستان نے کرونا وائر س کے پھیلنے کی پیش نظر ان علاقوں میں الرٹ جاری کردیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.