ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کی ہدایت پر تحصیل چھتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔

19

نصیرآباد۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کی ہدایت پر تحصیل چھتر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچہری کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر چھتر بہادر خان کھوسہ نے کی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ظہیر احمد عمرانی ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر حضور بخش مینگل تحصیلداران سید محمد شاہ، صدورا خان ابڑو ڈی ایس پی غلام حیدر منجھو اسسٹنٹ انجینئر لوکل گورنمنٹ سید حیدر شاہ ایس ایچ او روشن علی کاسی لائیو سٹاک کے ڈاکٹر سکندر کھوسہ محمد اسماعیل سیاسی و قبائلی رہنماء سردار عظیم شاہ ارباب عبدالرحیم کورار عملہ مال سمیت مختلف محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔کھلی کچہری میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور اپنے مسائل اسسٹنٹ کمشنر چھتر بہادر خان کھوسہ کے سامنے رکھے۔ عوام نے لائیو سٹاک کے ڈاکٹر کی عدم تعیناتی بچاؤ بند زراعت مسافر خانہ کی عدم دستیابی شجر کاری کے حوالے سے سرکاری نرسریوں کے قیام چھتر تا فلیجی روڈ کے التواء کورار میں طبی مرکز کی بندش۔ آر ایچ سی چھتر کو تحصیل ہسپتال کا درجہِ دینے سمیت بجلی، پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل کے حوالے سے زبانی و تحریری شکایات اور درخواستیں پیش کیں۔ اسسٹنٹ کمشنر چھتر بہادر خان کھوسہ نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو درپیش مسائل کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کھلی کچہری کا مقصد ہی یہی ہے کہ عوام کو اپنی دہلیز پر سنا جائے اور ان کے مسائل فوری طور پر حکام بالا تک پہنچائے جائیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کھلی کچہری میں پیش کیے گئے تمام مسائل کو ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کے توسط سے وزیراعلیٰ اور متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے گا اور ان شاءاللہ ان کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ نصیرآباد کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کھلی کچہریاں تسلسل کے ساتھ منعقد کی جائیں تاکہ عوام کے بنیادی مسائل فوری حل ہوں اور ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ کھلی کچہری کے موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بہادر خان کھوسہ کے احکامات کی روشنی میں شرکا کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے تھے

Comments are closed.