
کوئٹہ : پارلیمانی سیکرٹری صحت بلوچستان ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت عامہ سے متعلق نوجوانوں، خواتین، ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت تمام طبقات کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے موثر قانون سازی کے عمل کی جانب گامزن ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ ایسی دیرپا ہیلتھ پالیسز تشکیل دی جائیں جو تمام طبقات کے لئے یکساں طور پر فائدہ مند ہو اور اس میں صنفی بنیادوں پر کسی امتیازی سلوک کا پہلو جانبداری کا باعث نہ ہو ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف ڈی آئی پاکستان کے زیر اہتمام” ینگ پیپلز ہیلتھ رائٹس اینڈ سروسز” کے عنوان سے منعقدہ پانچ روزہ آن لائن ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خاص خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایف ڈی آئی پاکستان کی سربراہ عظمی یعقوب اور مایہ زمان نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی، پارلیمانی سیکرٹری صحت بلوچستان ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ نوجوانوں کی صحت اور ان کے حقوق سے متعلق پروگرام کا انعقاد شعوری آگاہی کی ترویج میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے ایک صحت مند نوجوان ہی معاشرے کی ترقی کے لئے اپنی بہتر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے متحرک کردار ادا کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ورچوئل انٹرایکشن کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک سے شامل شرکاء کی آراء اور تجربات بہتر سمت میں مثبت اقدامات اٹھانے میں کارگر ثابت ہونگے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک صحت مندانہ موضوع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس پلیٹ فارم پر موجود ہیں جو نوجوانوں کے مسائل اور ان کے حل کیلئے بہتر تجاویز پیش کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ صحت عامہ سے متعلق حکومت بلوچستان موثر قانون سازی کی جانب گامزن ہے صوبے میں پہلا ہیلتھ کئیر کمیشن قائم ہوچکا ہے خواتین بچوں اور نوجوانوں کی صحت سمیت صوبے میں پہلی ٹرانس جینڈر ہیلتھ پالیسی لائی جاررہی ہے تمام طبقات کی حساسیت کو برقرار رکھتے ہوئے موثر قانون سازی کی جارہی ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے اور ان سے بلا امتیاز معاشرے کے تمام طبقات استفادہ کرسکیں گے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ معاشرتی فلاح و بہبود کے لئے غیر سرکاری سطح پر ہونے والے اقدامات کی حکومت بھرپور سرپرستی کرے گی اور صحت عامہ سے متعلق تجاویز کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ نیشنل وویمن کاکس فورم اور بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین اسمبلی پر مشتمل وویمن کاکس فورم نوجوانوں خوا تین، بچوں، ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت تمام طبقات کے مسائل کے حل کیلئے فعال کردار ادا کررہے ہیں اور کار خیر کے اس سلسلے کو موثر قانون سازی کی صورت میں جاری رکھا جائے گا




