
آخری ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے زمبابوے کو 24 رنز سے شکست دے کر ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کرلی۔
ہرارے میں کھیلے گئے آخری ٹی ٹوئنٹی میں قومی ٹیم نے 164 رنز کا ہدف دیا جس کے تعاقب میں زمبابوے کی جانب سے اننگز کا آغاز پراعتماد انداز میں کیا گیا اور اوپنر ویسلے نے نصف سنچری اسکور کی تاہم وہ 59 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، ون ڈاؤن آنے والے مارومانی نے بھی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور 35 رنز کی اننگز کھیلی۔
میچ کے دوران ایک موقع پر زمبابوے کی ٹیم کھیل پر حاوی دکھائی دی تاہم حسن علی نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور 4کھلاڑیوں کو پولین بھیج دیا جس کی بدولت زمبابوے کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز ہی بناسکی۔
اوپنر محمد رضوان نے ایک بار پھر زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا اور نصف سنچری مکمل کی جب کہ کپتان بابراعظم نے بھی اوپنر کا ساتھ دیتے ہوئے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور نصف سنچری مکمل کرنے کے ساتھ ہی ٹی 20 میچوں میں تیز ترین 2000 رنز بنانے کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔
محمد رضوان اور بابر اعظم کے درمیان 124 رنز کی شراکت قائم ہوئی، رضوان نے 89 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جب کہ بابر اعظم نے 52 رنز بنائے جس کی بدولت قومی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 163 رنز بنائے۔
آخری اور فیصلہ کن میچ کے لیے قومی ٹیم میں 3 تبدیلیاں کرتے ہوئے آصف علی، دانش عزیز اور ارشد اقبال کی جگہ شرجیل خان، سرفراز احمد اور حسن علی کو شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہے، پہلے میچ میں قومی ٹیم نے زمبابوے کو شکست دی تھی جب کہ دوسرے میچ میں زمبابوے نے پاکستان کو 19 رنز سے ہرایا تھا۔




