
اسلام آباد (این این آئی)ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد نے کہا ہے کہ حکومت قرضوں کے معاملات ٹھیک کرنے کیلئے کوشاں ہے،ایف اے ٹی ایف میں اس وقت بھی ریوئیو پروگرام چل رہا ہے۔آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ کرنٹ اکائونٹ اور تجارتی خسارے پر قابو پانے کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف سے پروگرام کے تحت کئی اصلاحاتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان اقدامات سے مانیٹری امور کو سخت کرنے کیلئے کئے گئے جس سے افراط زر پر اثر پڑا۔ انہوکںنے کہاکہ سٹیٹ بینک آزاد مانیٹری پالیسی کے تحت کام کررہا جس کا مقصد مانیٹری امور بہتر بنانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت قرضوں کے معاملات ٹھیک کرنے کیلئے کوشاں ہے،ٹیکس بیس بڑھانے کے اقدامات کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ ایف اے ٹی ایف میں اس وقت بھی ریوئیو پروگرام چل رہا ہے،سٹیٹ بنک نے انٹرسٹ بڑھنے کے باوجود ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ بدستور 3 فیصد برقرار رکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تجارتی بالخصوص برآمدی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اصلاحات کی گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایس ایم ایز کے فروغ اور استحکام کیلئے اقدامات سے ان کے کاروبار کو تقویت ملی ہے۔ صدر ایف پی سی سی آئی انجم نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ہاٹ منی کے حصول کیلئے شرح سود کو بلند رکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں دنیا بھر سے زیادہ شرح سود ہے ،اتنے مہنگے شرح سود پر نہ نئی انڈسٹری لگ سکتی ہے نہ لگی ہوئی انڈسٹری بچ سکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیٹ بینک جرات دیکھا کر شرح سود کم کرے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت خوف کی فضا سے باہر نکلے،پاکستان کا شرح سود بھارت اور پاکستان دیش سے 12 فیصد زائد ہے،مارک اپ کم کر کے انڈسٹری کو ریلیف فراہم کیا جائے۔




