جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’نقائص‘ تھے، سپریم کورٹ
اسلام آباد: سپرم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے خود تحریر کردہ 174 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلے میں کہا کہ چونکہ تحقیقات کے لیے درست اجازت نہیں لی گئی تھی لہٰذا جواب دہندگان (فریقین) نے جسٹس عیسیٰ کے ٹیکس ریکارڈز تک غیرقانونی رسائی حاصل کی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی آبزرو کیا کہ صدر اور وزیراعظم عمران خان کے ذریعے جسٹس عیسیٰ کے امور کی چھان بین کا کوئی اختیار نہیں تھا، اس کے بجائے وزیر قانون فروغ نسیم نے اجازت حاصل کی۔
خیال رہے کہ 19 جون کو اپنے مختصر حکم میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور ان کے اوپر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر 3 آف شور جائیدادوں کو ظاہر نہ کرنے پر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے داغ کو صاف کردیا تھا۔