بلوچستان اسمبلی ،اپوزیشن کا محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی خالی آسامیوں کو فروخت کرنے کا الزام

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی خالی آسامیوں کو فروخت کرنے کا الزام، حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تندو تیز جملوں کا تبالہ اجلاس موخر کرنا پڑ گیا، پیر بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران پشین سے جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین نے لیویز فورس میں حالیہ ہونے والی بھرتیو ں کے معاملے کو پوائنٹ آف آرڈر پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ 90آسامیوں پر جو بھرتیاں کی گئی ہیں ان کی بھرتیوں کے حوالے سے حکومت کو چاہئے تھا کہ اشتہار برائے بھرتی لکھنے کی بجائے اشتہار برائے بولی لکھاجاتا کیونکہ جس طرح منڈی لگتی ہے یہاں بھی باقاعدہ منڈی لگی ااور لوگوں سے پیسے لے کر بھرتیاں کی گئیں انہوںنے دعویٰ کیا کہ میرے پاس اس حوالے سے آڈیو اور دیگر دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں جو لوگ تبلیغ میں گئے اور صوبے سے باہر تھے ان کا نام بھی ٹیسٹ و انٹرویوز کی لسٹ میں شامل ہے ۔وہ محکمہ کے انتظامی افسران پر سنگین الزامات بھی ایوان میں مسلسل دہراتے رہے اس دوران صوبائی وزراء میر سلیم کھوسہ ، نور محمد دمڑ ، اصغر علی ترین ، اخترحسین لانگو سمیت دیگر حکومتی اور اپوزیشن اراکین بیک وقت بولتے رہے اوران کے مابین تند وتیز جملوں کا تبادلہ بھی جارہا اس موقع پر اصغر علی ترین نے ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ بھی کیا ڈپٹی سپیکر کی بار بار تاکید کے باوجود بھی اراکین بیک وقت بولتے رہے جس کے باعث اجلاس پندر ہ منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑا وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو جے یوآئی کے سید فضل آغا نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پشین میں لیویز فورس کی تعیناتیوں کے دوران باقاعدہ پیسے مانگے جاتے رہے اگر یہ افراتفری اور کرپشن نہیں تو کیا ہے ؟انہوںنے کہا کہ یہ کرپشن چند لوگوں نے کی ہے اگر حکومتی اراکین اس میں ملوث نہیں تو انہیں اس نشاندہی پر برا بھی نہیں منانا چاہئے ۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ کوئٹہ میں266نان ٹیچنگ سٹاف کی بھرتیوں میں بھی بدعنوانی ہوئی جس کے حوالے سے سی ایم آئی ٹی کی کی رپورٹ بھی وزیراعلیٰ کو بھجوادی گئی ہے لیکن تاحال کسی کے خلاف تادیبی کارروائی نہیںہوئی جے یوآئی کے واحد صدیقی نے کہا کہ ایک ہی دن ٹیسٹ ، دوڑ اور انٹرویو سبھی مکمل کیا گیا اشتہار میں جو کوائف مانگے گئے تھے ان کاکوئی خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی قواعد کو خاطرمیں لایاگیا ہے بعدزاں وزیر زراعت انجینئر زمرک اچکزئی نے پشین کے منتخب اراکین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ اگر واقعی کوئی پیسے دے کر لگا ہے اور قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو صوبائی حکومت تادیبی کارروائی عمل میںلائے گی اراکین اسمبلی اطمینان رکھیں ہم ایک ہفتے میں تسلی بخش جواب بھی دے دیں گے اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو ثبوت لائے جائیں ہم انکوائری کریں گے جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر نے تسلی بخش جواب دیا ہے حکومت اور اپوزیشن اراکین اس معاملے کو دیکھیں اور متعلقہ محکمہ اس حوالے سے تمام تفصیلات فراہم کریں تاکہ اس اہم معاملے کو نمٹایا جاسکے ۔




