چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی افادیت اور اہمیت کو نظر انداز کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہوگی

0 29

کوئٹہ 23اکتوبر :۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی افادیت اور اہمیت کو نظر انداز کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہوگی, پبلک اکاؤنٹس کمیٹی دستیاب اعداد و شمار اور حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے صادر کرتی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تشکیل اس مقصد کے لیے نہیں کی گئی کہ یہاں پر پیش کیے گئے تمام آڈٹ پیراز کو سطحی طور پر پرکھ کر سیٹل کیا جائے، پی اے سی کے احکامات اور ہدایات کو نظرانداز کرنا قابل افسوس اور قابل گرفت ہے، انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قلعہ عبداللہ میں اٹھاون لاکھ کے مالی بے ضابطگیوں پر محکمہ کو ریکوری کی ہدایت دی گئی تھی لیکن محکمہ پی ایچ ڈی کی جانب سے اب تک صرف دس لاکھ ریکور کرنا غفلت اور نااہلی کے زمرے میں آتا ہے، عوام کے پیسوں کو غلط استعمال کرنے والوں کا مواخذہ ضروری ہے اس لیے محکمہ پی ایچ ای کو ایک مرتبہ پھر سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مذکورہ 58 لاکھ روپوں کی ریکوری کو ہر صورت یقینی بنائے- ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی اختصاصات برائے سال-17-2016 اور آڈٹ پیراز 18–2017 پر غور و خوص کے بابت منعقدہ پی اے سی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا- اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و ممبر ثناء بلوچ، میر زابد علی ریکی اور نصراللہ زیرے موجود تھے- علاوہ ازیں سیکرٹری پی ایچ ای عبدالفتح بھنگر، اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان خواجہ اویس، ڈی جی آڈٹ غلام سرور مندوخیل اور پی اے سی اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران موجود تھے- پی ایچ ای کے اختصاصات پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا کہ محکمہ کے مجاز حکام کو صوبائی حکومت سے اتنی ہی پیسے ڈیمانڈ کرنے چاہیے جتنے کے وہ خرچ کرسکتا ہے، حکومت سے 15 ارب روپیہ مانگنا اور پھر صرف پانچ ارب روپے خرچ کرنے کے بعد دس ارب روپے لیپس یا واپس کرانا سمجھ سے بالاتر ہے- محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ دس ارب روپے سرینڈر کرانے کے بجائے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو دوبارہ مختص کرا کر کوئٹہ کی سو سے زائد بند ٹیوب ویلوں کو فعال اور پانی کے فراہمی کے دیگر سکیمات پر صرف کر سکتی تھی- پانی صارفین سے واجبات کی ریکوری کے بابت پیرا پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پانی صارفین سے بلوں کے وصولی کے لئے منظم اور قابل عمل نظام بنایا جائے اکثر یہ بات مشاہدے میں آیا ہے کہ کئی کئی سالوں بعد اچانک محکمہ کے ملازمین صارفین کو یک مشت ہزاروں کا بل جمع کرانے کے لئے تھما دیتے ہیں جو کہ عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔محکمہ صارفین کو پانی کے بل جمع کرنے کے لیے سہل طریقہ کار متعارف کرائے۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میر زاہد علی ریکی نہیں آڈٹ پیراز کے ایک جز پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ان کے حلقہ انتخاب میں نہ ہی واٹرسپلائی سکیم نظر آتے ہیں اور نہ ہی محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں مزکورہ ٹھیکیدار وجود ہی رکھتے ہیں- چیئرمین پبلک اکاونٹ کمیٹی نے ھیدایت دی کہ محکمہ پی ایچ ای ایک کمیٹی بنا کر میر زابد علی ریکی کے حلقہ انتخاب واشک کا دورہ کرنے کے بعد زمینی حقائق کمیٹی کے روبرو پیش کرے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.