اہم خبریںبین الاقوامی

بھارت : اسد اویسی کے گھر پر انتہاپسند ہندوؤں کا حملہ

نئی دہلی  :  بھارت میں انتہا پسند ہندوئوں نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کردیا، دارالحکومت کے انتہائی سکیورٹی زون میں پارلیمان کے قریب رہائش پذیر مسلم رہنما کے گھر پر ہندو سینا نامی شدت پسند تنظیم کے ایک درجن سے زائد کارکنوں نے منگل کے روز دھاوا بولا ،شدت پسندوں نے دن دہاڑے نہ صرف اویسی کی رہائش گاہ پر توڑ پھوڑ کی بلکہ فیس بک لائیو کرکے اپنے کارنامے پر فخر کا اظہار بھی کیا،پولیس نے ہندو سینا کے پانچ کارکنوں کو حراست میں لے لیا،جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، اویسی لکھنؤ میں تھے ، انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہندو سینا کے حملہ آوروں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو نقصان پہنچایا،نام کی تختی توڑ ڈالی، گھر میں کلہاڑی پھینکی ،فرقہ وارانہ نعرے لگائے ، مجھے جہادی کہا اور قتل کرنے کی دھمکی دی، ہمارے ساتھ 40 برس سے کام کرنے والے ملازم راجو کے ساتھ مار پیٹ کی، اس کے چھوٹے بچے خوف زدہ ہیں، یہ لوگ بزدل ہیں، ہمیشہ اپنی بزدلی گروپ کی شکل میں دکھاتے ہیں، میرے گھر کو تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے ، پچھلی مرتبہ جب ایسا ہوا تھا تو موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ناصرف وزیر داخلہ تھے بلکہ میرے پڑوسی بھی تھے ،وزیر اعظم کی رہائش گاہ میرے گھر سے صرف آٹھ منٹ کی دوری پر ہے ، گھر کے ٹھیک سامنے پارلیمنٹ سٹریٹ تھانہ ہے ،بغل میں الیکشن کمیشن کا دفتر ہے ، اس کے باوجود اگر ایک رکن پارلیمان کا گھر محفوظ نہیں ہے تو وزیر داخلہ امیت شاہ بقیہ شہریوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔دنیا کوانتہا پسندی سے مقابلہ کرنے کا سبق دینے والے وزیر اعظم بتائیں کہ میرے گھر کو نشانہ بنانے والوں کو کسی نے انتہا پسند بنایا؟اویسی کی جماعت کی دہلی یونٹ کے صدر کلیم الحفیظ نے کہا اترپردیش میں الیکشن ہونے والے ہیں اور ریاست اور مرکز کی بی جے پی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی ہے اس لیے اس کے پاس ایک ہی حربہ بچا ہے کہ ماحول میں نفرت گھول دیں تاکہ ووٹروں کی صف بندی میں آسانی رہے ، حکومت کی عدم سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر کرانے کیلئے مجھے چھ گھنٹے تک تھانے میں بیٹھے رہنا پڑا اور پولیس نے قصورواروں کے خلاف بہت معمولی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ، جن پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے ان کی عمریں 20 سے 30 برس کے درمیان ہیں ،ان نوجوانوں کا جس طرح برین واش کیا گیا ہے وہ ملک کو انارکی کی طرف لے جانے کیلئے کافی ہے ۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسر دیپک یادو نے کہا ہم نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے ، وہ اویسی کے بعض بیانات سے ناراض تھے ، ہم ان سے مزید پوچھ گچھ کر رہے ہیں،ہندو سینا کے قومی صدر وشنوگپتا نے تسلیم کیا کہ توڑ پھوڑ میں ملوث افراد ان کی تنظیم کے کارکن ہیں، انہوں نے کہا ہم اس طرح کے حملوں کے خلاف ہیں تاہم اویسی کو بھی ہندو مخالف تقریر نہیں کرنی چاہیے ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اویسی اور ان کے بھائی نے مسلمانوں کو متاثر کرنے کیلئے ہندو مخالف تقریریں کی تھیں جس کی وجہ سے ہمارے کارکنوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button