مقابلے کے امتحانات میں میرٹ کی بحالی نہ صرف ناانصافیوں کی اصلاح کا آغاز ہے بلکہ سماجی انصاف کے حصول کی جانب پہلا درست قدم ہے۔ گورنربلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل
کوئٹہ 29 مئی: گورنربلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ مقابلے کے امتحانات میں میرٹ کی بحالی نہ صرف ناانصافیوں کی اصلاح کا آغاز ہے بلکہ سماجی انصاف کے حصول کی جانب پہلا درست قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اداروں کیلئے قابل اور باصلاحیت افسران کا انتخاب صرف CSS، PCS اور ISSB کے امتحانات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کمیشن کے ایک رکن کے طور پر یہ ایک قومی ذمہ داری ہے کہ خوداحتسابی، ادارے کی کارکردگی اور طریقہ کار کو بڑھایا جائے تاکہ اسے زیادہ شفاف اور موثر بنایا جا سکے اور حق حقدار تک فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین عبدالسالک خان سے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں کمیشن کی کارکردگی، میرٹ کی پاسداری، امتحانات اور انٹرویوز کے طریقہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر شیخ جعفرخان مندوخیل نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بلوچستان کو شدید بیروزگاری کا سامنا ہے جسکی وجہ سے نوجوان ذہنی کوفت اور پریشانی کے شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے امتحانات اور انٹرویوز میں میرٹ کو برقرار رکھنے سے مستحق امیدواروں کو انصاف فراہم کرکے نوجوانوں کی مایوسی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا اور انکی صلاحیتوں کو قومی مفادات کیلئے بروئے کار لانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ گورنر نے فخریہ انداز میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ محدود وسائل کے باوجود مختلف اضلاع کے انتہائی غریب لیکن قابل امیدوار مقابلے کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے غریب مگر قابل طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی بہت ضروری ہے.
Comments are closed.