ملک گیر سیلابی تباہ کاریاں لمحۂ فکریہ ہیں؛ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر، حکومت فوری ہنگامی اقدامات کرے
کراچی: عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے ملک بھر، بالخصوص بلوچستان میں جاری شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور مربوط حکمت عملی کے تحت ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔سید امان شاہ نے کہا کہ پاکستان بھر میں جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث سینکڑوں دیہات متاثر، درجنوں انسانی جانیں ضائع، سینکڑوں زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں صورتحال خاص طور پر انتہائی نازک ہے، جہاں گوادر، کیچ، پشین، خضدار، ژوب، مستونگ اور لسبیلہ جیسے اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔سید امان شاہ نے کہا کہ ریسکیو آپریشن سست روی کا شکار ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح ہنگامی پالیسی یا ریلیف پیکج سامنے نہیں آیا۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے لیے یہ رویہ قابلِ افسوس اور ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخواہ میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی سے اموات ہوئیں ؛پنجاب کے نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئیں؛سندھ میں برساتی پانی کے نکاس میں ناکامی کے باعث بدترین صورتحال پیدا ہو چکی ہے؛گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ سے سیاح اور مقامی آبادی خطرے میں ہے۔سید امان شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان ماحولیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کی زد میں ہے۔ غیر متوقع بارشیں، شدید گرمی کی لہریں اور سیلابی صورتحال اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمیں فوری اور دیرپا اقدامات کی ضرورت ہے۔ *اگرچہ وفاقی حکومت نے حالیہ بجٹ میں کلائمیٹ چینج کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں، تاہم یہ رقم گلوبل وارمنگ جیسے سنگین اور فوری نوعیت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کو قومی ترجیح بنایا جائے اور اس کے لیے ایک جامع، شفاف اور مؤثر فنڈنگ پالیسی تشکیل دی جائے؛ تاکہ پاکستان آنے والے ماحولیاتی خطرات سے محفوظ رہ سکے۔ جنگلات کے فروغ، آبی وسائل کے تحفظ اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔* سید امان شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں صبر اور حوصلے سے کام لیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔
*ترجمان عوام پاکستان پارٹی*
Comments are closed.