
اسلام آباد : امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ جے آسٹن نے افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ لائیڈ آسٹن نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ’افغان امن عمل کے لیے اسلام آباد کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا‘۔
سیکریٹری دفاع نے افغانستان سے واپسی کے دوران آرمی چیف کو فون کیا۔لائیڈ آسٹن نے افغانستان کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اتوار کے روز غیر اعلانیہ دورہ کیا تھا۔
لائیڈ آسٹن نے آرمی چیف کے ساتھ گفتگو میں انہیں یقین دلایا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ ’مشترکہ مفاد‘ کے شعبوں میں اپنا تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔اعلامیے کے مطابق سیکریٹری دفاع نے پاکستان کے ساتھ مضبوط باہمی دفاعی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا کے عزم کا اعادہ کیا اور افغان امن عمل کے لیے اسلام آباد کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں لائیڈ آسٹن نے افغان جنگ کو ’ذمہ دار انجام‘ تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے لیے حتمی آخری تاریخ دینے سے انکار کردیا تھا۔اس سے قبل سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے دورہ بھارت میں بھارتی رہنماؤں کے ساتھ انسانی حقوق اور جمہوریت کے معاملات کو اٹھایا تھا۔
اس سے قبل طالبان نے واشنگٹن کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی آخری تاریخ سے متعلق معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ طالبان کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر نظرثانی کررہی ہے۔
جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں نشریاتی ادارے ‘اے بی سی’ کو بتایا تھا کہ یکم مئی کی آخری تاریخ ہوسکتی ہے لیکن اگر ڈیڈ لائن میں توسیع کی جاتی ہے تو یہ زیادہ لمبی نہیں ہوگی۔طالبان رہنما سہیل شاہین نے کہا تھا کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا ، وہ دستبردار ہوجائیں گے اور ہم افغانستان کے مسئلے کے حل اور پرامن تصفیہ پر توجہ مرکوز کریں گے تاکہ ایک سیاسی روڈ میپ تک پہنچیں اور مستقل اور جامع جنگ بندی ہوسکے’۔



