
کوئٹہ : وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں محکمہ خوراک کے لیے سو کلو گرام کے چھ لاکھ بیگز مختص کرنےاور گندم پر سبسڈی دینے کی منظوری دے دی گئی اس کے علاوہ کم سے کم قیمت مقرر کرنے کے لئے گندم پروکیورمنٹ پلان 2021 کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان سال 2021 میں ایک لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ گندم خریداری 2021 کو مختلف زون میں مقرر 31 مراکز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مقررہ معیار کی گندم کی قیمت 1650 روپے فی 40 کلوگرام سے بڑھا کر 2000 روپے فی چالیس کلوگرام پر خریداری کی منظوری دے دی گئی۔ محکمہ خوراک کی جانب سے پالیسی برائے خریداری گندم 2021 بھی پیش کی گئی اور صوبائی سطح پر گندم کی خریداری کے لیے صوبائی وزیر خوراک کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ کابینہ نے بلوچستان آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ کے ڈرافٹ کی منظوری دے دی ۔اسی طرح کابینہ نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز ایکٹ 2020 کی منظوری دے دی ۔ کابینہ نے خواتین کو کام کی جگہ پر تحفظ فراہم کرنے کے لئے آفس آف دی اومبڈپرسن بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2020 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ جبکہ کابینہ نے محکمہ مذہبی امور کے بلوچستان ٹرسٹ ایکٹ 2021 ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی ۔ مذکورہ ایکٹ کے حوالے سے کابینہ کو بتایا گیا کہ فیٹف کے تناظر میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ کابینہ نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کو بلوچستان لیویز فورس کے سروس رولز 2020 کو فریم کرنے کی منظوری دے دی۔ جبکہ کوئٹہ میں 05 پولیس سٹیشن اور 11 پولیس پوسٹس کے قیام کے لئے حصول اراضی کی منظوری بھی دے دی۔ کابینہ نے محکمہ بلدیات کے 15 دسمبر 2020 اور 02 فروری2021 کو ہونے والے سولہویں اور سترہویں لوکل کونسل گرانٹس کمیٹی کے اجلاس کے منٹس کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ نے بلوچستان پبلک مینجمنٹ ایکٹ 2020 کو مجوزہ ترامیم اور سفارشات کے ساتھ مرتب کرتے ہوئے ہوئے اسے دوبارہ کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے زیارت ٹورزم ویلی ڈویلپمنٹ پلان کے لیے لاگت میں ترمیم کی منظوری بھی دے دی۔کابینہ میں پیش ہونے والے کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے نظرثانی شدہ پی سی ون کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے محکمہ آبپاشی کی مجوزہ اسکیمات کے نومیکلیکچر میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔جبکہ واٹر چارجز میں نظرثانی کے لیے صوبائی وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔کابینہ نے محکمہ ثانوی تعلیم کو پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم میں کام کرنے والے اسٹاف کی کنٹریکٹ کی معیاد میں یکم جولائی 2020 تا 30 جون 2021 تک توسیع دینے کی منظوری دیتے ہوئے اس سے متعلق آڈٹ رپورٹ مرتب کر کے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کو پی ایس ڈی پی سکیم 1463 کے لئے اضافی فنڈز کی منظوری دیدی۔کابینہ نے 185 پی ایس ڈی پی پلس اسکیمات پر عمل درآمد کرنے کی منظوری دے دی ۔ کابینہ نے رکھنی تا بیکڑ روڈ کی تعمیر، نوشکی بائی پاس، قلات بازار روڈ، خاران نمک پاس روڈ، سیندک بائی پاس، پشین سٹی بائی پاس اور نواں کلی بائی پاس کے تعمیراتی منصوبوں کے لیے فنڈز بڑھانے کی منظوری دے دی ۔ کابینہ نے پی ٹی ڈی سی کی املاک کو صوبے کو منتقل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پی ٹی ڈی سی کے ہیومین ریسورس کے معاملات سے متعلق کابینہ کی سب کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نظام کو مزید مربوط اور موثر کرتے ہوئے ایک جامع نظام کے تحت امور کی انجام دہی کو بہتر بنا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا آئندہ بجٹ بھی جامع اور عوام دوست ہوگا ۔ تمام ترقیاتی اسکیمات کی منظوری سے قبل کانسیپٹ پیپرز اور پی سی ون کی تیاری میں تمام ضروری جزئیات کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر گورننس اور بروقت فیصلوں سے حکومتی اقدامات کے ثمرات سے عوام مستفید ہوتے ہیں ۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ قانون سازی کرتے وقت تمام ضروری پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے اور دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق موجودہ قوانین میں میں ترامیم کرتے ہوئے ہوئے صوبے کے وسیع تر مفاد میں قوانین بنائے جائیں۔ وزیراعلی نے محکمہ محنت و افرادی قوت کو ہدایت کی کہ یتیم بچوں کی معاونت و کفالت کے لیے خصوصی پروگرام تشکیل دیتے ہوئے اس حوالے سے کام کریں۔



