
کوئٹہ : جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے نئے ترامیم لانے کی کوشش میں ہے جسے جمعیت علما اسلام اس کو مسترد کرتی ہے ، مدارس کا دفاع ہماری اولین ترجیح ہے مدارس کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا جمعیت علما اسلام بلوچستان میں آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے کلین سوئپ کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قلعہ سیف اللہ میں مدرسہ انوارالعلوم حقانی میں دستارفضلیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو نظرانداز کیا اور تنقیدی و تعمیری آوازوں کو دبانے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا ایسی کوئی بھی ترامیم، قانون یا آرڈیننس جس میں آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش کی جائے گی اس کی ہر فورم پر سختی سے مخالفت کی جائے گی ، آزادی صحافت کے تحفظ اور آزادی رائے کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ مدارس کا دفاع کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ہر ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں مدارس کے خلاف سازش کی گئی ہے مگر ان سازشوں کو ہم نے ناکام بنایا ہے اب تک عالمی سطح پر کرپشن کے حوالے سے کئی لیکس سامنے آئے ہیں جس میں مدارس سے فارغ ہونے والے طلبا اور عالم دین شامل نہیں ہیں اس سے اندازہ لگایا جائے کہ مدارس ایک حقیقی معنوں میں درسگاہ ہے جو لوگوں کو علم کے ساتھ ساتھ شعور دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔ وفاقی حکومت اب آخری حربہ استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر وہ کبھی بھی اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ان کی حکومت جانے والی ہے اب وہ اپنی حکومت بچانے کیلئے ملک کو دا پر لگانے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کی قانون سازی کا مقصد مخالفین کو ٹھکانے لگانا ہے ، آرڈیننس لگانے والی فیکٹری زمیں بوس ہونے والی ہے، آئین میں آرڈیننس کی مخصوص حالات میں گنجائش ہے لیکن عارف علوی نے عمران خان کی غلامی کر کے ایوان صدر کو بے توقیر کر دیا ہے ،شیخ رشید ڈکٹیٹر ہیںجنہوں نے ریلوے میں آتے ہی تباہی مچا دی جبکہ اعظم سواتی کو ریلوے کی الف ب بھی نہیں آتی، اچھے آدمیوں کو موقع ہی نہیں دیا جا رہا۔



