معروف بلوچ سیاسی کارکن کریمہ بلوچ کی لاش کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے برآمد

0 26

ٹورنٹو:  معروف بلوچ سیاسی کارکن اور بلوچ طلبا تنظیم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سابق چئیرپرسن کریمہ بلوچ کی لاش ٹورنٹو سے برآمد ہوئی ہے . تفصیلات کے مطابق معروف بلوچ سیاسی کارکن کریمہ بلوچ کی لاش کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے برآمد ہوئی ہے .

بی بی سی میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹورنٹو پولیس نے کریمہ بلوچ کی لاش تحویل میں لے رکھی ہے جسے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کیا جائے گا. تاحال کریمہ بلوچ کی موت کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں.پولیس کے مطابق کریمہ بلوچ کو آخری بار اتوار 20 دسمبر 2020 کو تقریبا دوپہر تین بجے دیکھا گیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئیں.بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثناء اللہ بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کریمہ بلوچ کی ناگہانی موت قومی سانحہ و صدمے سے کم نہیں. یہ حکومت کینیڈا کا فرض ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرے اور ان کے خاندان اور بلوچ قوم کو تمام حقائق سے آگاہ کرے. کریمہ بلوچ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے ان کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے.

37 سالہ کریمہ بلوچ کینیڈا میں پناہ گزین کی حیثیت سے مقیم تھیں، 2016ء میں بی بی سی نے کریمہ بلوچ کو دنیا کی سو بااثر خواتین کی لسٹ میں بھی شامل کیا تھا. واضح رہے کہ کریمہ بلوچ کو بلوچ خواتین میں سیاسی تحریک پیدا کرنے کا بانی کہا جاتا ہے.وہ بلوچ آرگنائزیشن کی ستر برس کی تاریخ میں تنظیم کی پہلی خواتین سربراہ بنیں.بلوچستان میں طالبات کو بلوچ تحریک میں شامل رکھنے اور احتجاجوں میں شریک کرانے میں ان کا اہم کردار ہے.سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کریمہ بلوچ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.