امریکا: کرسمس پریڈ پر گاڑی چڑھ دوڑی، 5 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

0 34

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سالانہ چھٹی کے موقع پر لال رنگ کی گاڑی پریڈ کے بیچوں بیچ عوام کو روندتے ہوئے نکل گئی جس میں عینی شاہدین کے مطابق اسکول مارچنگ بینڈ کے شرکا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔

ووکیشا پولیس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فیس بک پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے البتہ یہ اعدادوشمار بڑھ سکتے ہیں کیونکہ ہم مزید معلومات اکٹھا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملوں میں ملوث ہونے کے شبے میں ایک گاڑی کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ملووکے کیتھیڈرل چرچ کی ترجمان سینڈرا پیٹرسن نے کہا کہ زخمیوں میں ہمارے کیتھولک پادری کے ساتھ ساتھ ووکیشا کیتھولک اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔

ووکیشا پولیس کے سربراہ ڈین تھامپسن نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پریڈ کو کسی بھی قسم کے حملے کے خطرات لاحق نہیں تھے اور واقعے میں استعمال ہونے والے گاڑی کو برآمد کر لیا گیا ہے۔

فائر چیف اسٹیون ہاورڈ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 11 بڑے اور 12 بچوں کو علاقے کے چھ ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

واقعے کے دوران ایک پولیس افسر نے ایس یو وی گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر فائرنگ بھی کی تھی۔

ڈین تھامسن نے کہا کہ اس واقعے کے سبب پیر کو وسکونسن میں اسکول اور راستے بند رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بھیانک حادثے کے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور ہم نے تعاون اور مدد کے لیے ریاست سے رابطے میں ہیں۔

ونکونسن کے خزانچی کے امیدوار اینجے لیٹو ٹینوریو بھی پریڈ میں موجود تھے اور انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ایک ایس یو وی کو اندھا دھند فوج پر گاڑی دوڑاتے اور اس سے روندے گئے لوگوں کو چیختے پکارتے ہوئے دیکھا۔

وسکونسن کے گورنر ٹونی ایورز سمیت امریکی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.