
تحریر: محمد زیب
پشاور کے مضافاتی علاقے ورسک روڈ، ملا گڑھی،ساراسنگ میں زمین کے تنازعے نے خطرناک رخ اختیار کر لیا، جب احمد مجتبیٰ عرف واوا خان اور قوم عیسی خیل کے درمیان زمین کے لین دین پر پیدا ہونے والے اختلاف نے خونریزی کی شکل اختیار کر لی۔
ذرائع کے مطابق، احمد مجتبیٰ عرف واوا خان نے 250 جریب زمین ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کے لیے خریدی، جو قوم عیسی خیل کی زمین سے منسلک تھی۔ اسی بنیاد پر عیسی خیل قوم کے مشران نے 25 لاکھ روپے فی جریب کے حساب سے رقم کا مطالبہ کیا، کیونکہ زمین ڈی ایچ اے پشاور کے بالکل قریب واقع ہے۔
عید سے چند روز قبل، قوم عیسی خیل کے کچھ افراد نے دن دہاڑے واوا خان کی مارکیٹ پر حملہ کیا اور دکانیں بند کرانے کی کوشش کی، حالانکہ یہ مارکیٹ تھانے کے بالکل سامنے واقع ہے۔ پولیس کی مبینہ چشم پوشی نے عوام کو حیران کر دیا — نہ کوئی مزاحمت، نہ کوئی کارروائی۔ ایسا لگا جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر غیرفعال ہیں۔
صورتحال کو کنٹرول میں لانے کے لیے واوا خان کے کزن عزیز غفار (جو اے این پی کے سابق امیدوار بھی رہ چکے ہیں) اور کرامت اللہ خان چغرمٹی نے فریقین کے درمیان جرگے کا انعقاد کیا۔ مگر قوم عیسی خیل چھ کروڑ روپے کے مطالبے پر ڈٹی رہی، جس کے بغیر وہ کسی قسم کی صلح کے لیے تیار نہیں تھے۔
بات تب بگڑی جب یکم جولائی کو ایک بار پھر واوا خان کی مارکیٹ پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مزاحمت کرنے پر واوا خان کا بھائی صدام شدید زخمی ہو گیا جبکہ ان کے چچا رویداد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ صدام اس وقت آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام کارروائی پولیس تھانے کے بالکل سامنے ہوئی، مگر پولیس نے نہ صرف کوئی حرکت نہیں کی بلکہ مبینہ طور پر اپنے پیچھے دروازے بند کر کے خاموش تماشائی بنی رہی۔
مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ جب زخمی صدام کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو راستے میں ان کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، جس میں ایک راہگیر ڈرائیور شہید ہو گیا۔ اس مظلوم کو شاید یہ علم بھی نہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کا آخری سفر کر رہا ہے۔
دوسری جانب قوم عیسی خیل کے تین افراد بھی زخمی ہوئے اور ایک جان بحق ہوا۔ مگر معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی ابتدا اور اسلحے کے بے دریغ استعمال میں مکمل قصور قوم عیسی خیل کا تھا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کے پیچھے کسی بااثر شخصیت یا گروہ کا ہاتھ ہے، کیونکہ اس نوعیت کا اسلحہ عام افراد کے پاس ہونا غیر معمولی ہے۔
سی سی ٹی وی کیمروں میں پوری واردات کی ریکارڈنگ موجود ہے، مگر پولیس اور اعلیٰ حکام تاحال خاموش ہیں، جو انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا پشاور جیسے شہر میں قانون محض کتابوں کی زینت بن چکا ہے؟
کیا چند بااثر افراد اس شہر کے امن کو یرغمال بنا سکتے ہیں؟
آخر پولیس کی خاموشی کی وجہ کیا ہے؟
یہ واقعہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا مظہر ہے بلکہ حکومت وقت کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔



