ضلع سجاول سمیت بڈو ٹالپر، جاتی اور چھوہڑ جمالی میں سال 2025 کے دوران منشیات فروشوں نے زہریلی سپاری، پتی اور دیگر نشہ آور اشیاء کے ذریعے جس بے رحمی سے معاشرے کو کھوکھلا کیا، وہ کسی اجتماعی المیے سے کم نہیں۔ یہ محض غیر قانونی کاروبار نہیں رہا بلکہ نوجوان نسل، بچوں، خواتین اور مردوں کی زندگیوں کو برباد کرنے والا ایک منظم جرم بن چکا ہے—گویا سماجی نسل کشی کا خاموش مگر مسلسل سلسلہ جاری رہا۔
ریاستی اداروں کی محدود کارروائیوں کے باوجود منشیات فروشوں کا نیٹ ورک نہ صرف برقرار رہا بلکہ کئی علاقوں میں مزید مضبوط ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک معاشرہ خاموش تماشائی بنا رہے گا؟ کب تک زہر بیچنے والوں کو بااثر حلقوں کی سرپرستی حاصل رہے گی؟
سال 2026 اس حوالے سے ایک نئے عزم اور نئی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع سجاول میں اگر کوئی غیر جانبدار، دیانت دار اور فرض شناس افسر تعینات ہوتا ہے تو اسے مکمل عوامی تعاون فراہم کیا جائے، تاکہ منشیات فروشوں کی نشاندہی ہو اور قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
یہ حقیقت اب مزید نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ظلم کے خلاف خاموشی بھی ظلم کے مترادف ہے۔ سندھ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور کے رحم و کرم پر چھوڑ دے یا اجتماعی شعور، ریاستی عمل داری اور عوامی مزاحمت کے ذریعے منشیات کے خلاف ایک حقیقی اور فیصلہ کن جنگ کا آغاز کرے۔
2026 کو محض ایک نیا سال نہیں بلکہ منشیات کے خلاف اجتماعی بیداری، احتساب اور عمل کا سال بنانا ہوگا—کیونکہ یہی ہمارے معاشرتی مستقبل کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔




