عمران خان توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل قرار
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کو توشہ خان ریفرنس میں نااہل قرار دے دیا۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 63 ون کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔
عمران خان کی نااہلی 5 رکنی الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی قومی اسمبلی کی سیٹ خالی قرار دے دی گئی ہے۔
سیکیورٹی انتہائی سخت
الیکشن کمیشن کی درخواست پر توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سنائے جانے سے قبل سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتطامات کئے گئے۔
الیکشن کمیشن اور اطراف میں 1150 پولیس اہلکار و افسران تعینات کیے گئے۔
ریڈ زون میں عوام کا داخلہ محدود کر دیا گیا جبکہ غیر متعلقہ افراد کو الیکشن کمیشن میں داخل بھی نہیں ہونے دیا جارہا۔
عمران خان پر الزام کیا تھا؟
مسلم لیگ (ن) کے رہنما محسن رانجھا اور دیگر ایم این ایز نے اسپیکر قومی اسمبلی کو عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس 4 جولائی کو جمع کروایا تھا۔
ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانے سے وصول تحائف کو فروخت کیا اور گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔ عمران خان نے توشہ خانے سے تحائف کی خریداری کو دانستہ طور پر چھپایا۔
ریفرنس میں استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا جائے۔
بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے آرٹیکل 63 کے تحت الیکشن کمیشن کو ارسال کیا تھا۔