طویل لوشیڈنگ سے زراعت کا شعبہ تباہی کے دھانے پہنچ چکا ہے‘زمرک اچکزئی

0 29

کوئٹہ: صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں کی اکثریت کاذریعہ معاش کا دارومدار زراعت پر ہے جبکہ صوبے میں طویل لوشیڈنگ سے زراعت کا شعبہ تباہی کے دھانے پہنچ چکا ہے، وفاقی حکومت اور واپڈہ اس سلسلے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں، زمیندار واپڈہ سے ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زراعی ٹیوب ویلز کو درپیش مشکلات، لوڈ شیڈنگ اور دیگر امور سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں زمیندار ایکشن کمیٹی کی طرف سے ایم پی اے ملک نصیر شاہوانی، سیکرٹری انرجی شہریار تاج،ڈی جی انرجی نصرت بلوچ،ڈی جی زراعت مسعود بلوچ،سی ای او کیسکو محمد عرفان اور زمینداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں لوڈ شیڈنگ،بلوچستان کے ذمے واپڈہ کے واجبات اور زراعی ٹیوب ویلز پر میٹر کی تنصیب کے حوالے سے واپڈہ حکام اور زمینداروں کے مابین مختلف امور اور تحفظات دور کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ زمیندار سیکشن کمیٹی کے صدر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ صوبے میں بجلی چوری، لائن لوسز اور دیگر واجبات زمینداروں پر تومپ دی گئی ہے جو قطعاً درست نہیں،زمیندار شدید دبا¶ کا شکار ہے،ہفتوں بجلی کی بندش سے زراعت تباہ ہوچکی ہے،اگر دس فیصد زمیندار بل نہیں دیتے واپڈہ نوے فیصد زمینداروں کا بجلی کاٹ دیتاہے، طویل لوڈ شیڈنگ سے ملک میں گندم اور سبزی کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور گندم باہر سے درآمد کی جارہی ہے،مختلف طریقوں سے بلوچستان کے ذمہ 300ارب روپے ڈال دیئے گے ہیں جو سرانسر نا انصافی ہے،ذمیندارواپڈہ سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں اگر انہیں اصولی طور پر مناسب بجلی کی فراہمی یقینی بنایا جائے، اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آزمائشی بنیادوں پر ٹیوب ویلز پر میٹر لگائی جائے گی، اور وفاق سے بات کی جائے گی کہ سالانہ کی بنیاد پرپانچ ہزار زراعی ٹیوب ویلز کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے جس سے وفاق اور صوبے کو سبسڈی کی مد میں بچت ہوگی،جبکہ بلوچستان کے ذمہ 300ارب روپے واجبات سے متعلق وزیراعظم سے زمیندار ایکشن کمیٹی ملاقات کریگی، اس موقع پرواپڈہ کے حکام نے اجلاس کو یقین دلایا کہ زمینداروں سے باہمی مشاورت سے بل نہ دینے والے زمینداروں کے کنکشن منقطع کیے جائیں گے،اور اس سلسلے میں لوکل گورنمنٹ بھی واپڈہ کو تعاون فراہم کرے گی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ بلوچستان میں اکثریت چھوٹے زمینداروں کی ہے اور لوڈ شیڈنگ،ٹڈی دل کے حملوں سے یہ شعبہ شدید متاثر ہے جس سے صوبہ میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے،انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور بجلی کی مستقل بنیادوں پر حل کے لیے کوئی جامع پالیسی مرتب کریں تاکہ صوبے میں احتجاج کا سلسلہ حل ہوسکے، انہوں نے کہا کہ زمینداروں کے مسائل کے حل اور زمینداروں کے زمہ واجبات کا مسئلہ وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے اٹھایا جائے گااور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.