نواز شریف نے اداروں اور کرداروں کے درمیان لکیر کھینچ دی، مریم نواز

0 35

اکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم کے حوالے سے کہا کہ دو روز قبل ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی شکست کا ماتم کر رہا تھا, عمران خان کے چہرے پر خوف ہے اور عوام یہی خوف ان کے چہرے پر دیکھنا چاہتے ہیں، اگر حکومتی معاملات میں دباؤ برداشت کرنا نہیں آتا ہے تو نواز شریف سے سیکھا ہوتا۔

کراچی میں حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا ہے، ہم جانتے ہیں کہ آپ دباؤ میں ہیں لیکن دباؤ میں کس طرح گریس دکھانی ہوتی ہے نہیں پتہ ہے تو خدا را وزیراعظم کے منصب کا خیال رکھا ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ 126 دن وزیراعظم کے باہر شاہراہ دستور میں جمہوریت کی قبریں کھودیں لیکن نواز شریف نے کبھی آپ کا نام لینا گوارا نہیں اور کبھی گھبرا کے الٹی سیدھی بات نہیں کی، آج بھی آپ کی حسرت رہے گی نواز شریف آپ کا نام نہیں لےگا۔

خیال رہے کہ جلسے میں پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان (نورانی) کے رہنما شاہ اویس نورانی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ساجد میر، قمر زمان قائرہ، محسن داوڑ اور دیگر رہنما موجود تھے۔

‘تابعدار ملازم کو پاکستانی قوم لاکھوں ادا کررہی ہے’

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ بڑوں کے معاملات میں بچوں کا کوئی کام نہیں ہے، تم کس خوشی میں اچھل رہے ہو، تم تابعدار ملازم ہو اب فرق یہ آیا ہے کہ جعلی اور سلیکٹڈ ہونے کی تنخواہ پاکستانی قوم کو لاکھوں میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آپ کا مخاطب بھی عوام نہیں ہوتے، جب خطاب کرتا ہے، یا اپوزیشن، یا نواز شریف سے مخاطب، مریم نواز، بلاول بھٹو یا مولانا فضل الرحمٰن یا ان سے مخاطب ہوتا ہے جو ان کو لے کر آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا نام لینا پسند نہیں کرتی اور ان کے الزامات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتی لیکن کل ایک ایسی بات کی جو شاید میرا مذاق اڑانے کی غرض سے کی گئی لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں ایک بچی نہیں بلکہ دو بچوں کی نانی ہوں کیونکہ یہ ایک خوب صورت رشتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے میری نہیں بلکہ اس مقدس رشتے کی تضحیک کی ہے، نانی ماں کی ماں ہوتی ہے لیکن میں اس کا جواب نہیں دوں گی اگر جواب دینا چاہوں تو بہت کچھ کہہ سکتی ہوں کیونکہ میں نواز شریف اور کلثوم نواز کی بیٹی ہوں۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ رشتے بڑے مقدس ہوتے ہیں اور یہ رشتے ان کو ملتے ہیں جو رشتے نبھانا جانتے ہیں جو رشتوں کا احترام جانتے ہیں، خاندان کے اقدار جانتے ہیں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا، بلاول نے بہن کی طرح عزت دی، محمود خان اچکزئی نے مجھے اتنی عزت دی کہ جب گزشتہ برس کوئٹہ گئیں تو ان کے بیٹے نے دو دن گاڑی چلائی۔

انہوں نے کہا کہ ہم حریف ہوں گے لیکن دشمن نہیں ہوں گے۔

‘جمہوری روایت کو برقرار رکھیں گے’

مریم نواز نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرکے کہا کہ وعدہ کریں کہ ہم انتخابی سطح پر حریف ہوں گے لیکن دشمن نہیں اور ایک دوسرے کی عزت و احترام برقرار رکھیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ بلاول ہم مخالفت میں کبھی اتنے آگے نہیں جائیں گے کہ جو روایت عمران خان اور ان کے وزرا نے ڈال دی ہیں، ہم انتخابی میدان میں لڑیں گے لیکن آپس میں نہیں لڑیں گے اور ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان، نواز شریف کی ایک تقریر پر آپے سے باہر ہوگئے جس کے نشر کرنے پر پابندی تھی، نواز شریف کی آواز میڈیا میں چلانے پر پابندی ہے اور ان کے دل میں خوف ہے، اگر اتنی ہمت ہے تو سنا دیں کہ نواز شریف نے کیا کہا۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر نواز شریف سے گھبرا گئے تو نواز شریف کی تقریر پر تبصرے کا بھی حق نہیں ہے، نواز شریف کی تقریر ٹی وی پر نہیں چلی پھر آپ نے کیسے سنی کیا چھپ چھپ کر سن رہے تھے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ نے چھپ چھپ کر نواز شریف کی تقریر سنی اور کہتے کہتے رک گئے کہ نیب ہمارے ساتھ ہے، سچ حلق میں رک جاتا ہے لیکن جھوٹ بڑی روانی سے بولتے ہو’۔

انہوں نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ نیب کس کے اشارے پر کام کرتا ہے، دنیا جانتی ہے کہ ناصرف نیب بلکہ ایف بی آر تمہارے قبضے میں ہے، ارشد ملک جیسے جج عمران خان کے ساتھ ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اسلام آباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کھلے آسمان کے نیچے اپنے مطالبات کو تسلیم کرانے کے لیے موجود ہیں لیکن عمران خان کو کوئی فکر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور بلاول کے آباو اجداد کیا تھے پوری قوم کو معلوم ہے ہمیں مت بتاؤ کہ حلال و حرام کے بارے میں لیکن تم یہ بتاؤ کہ جس نوکری پر تمہیں رکھا گیا اس کے علاوہ کبھی کوئی اور نوکری کی۔

’50 لاکھ گھر کہاں گئے’

مریم نواز نے کہا کہ جس انسان کے کچن، کپڑے، جہازوں کے سفر اور گاڑیوں کا خرچہ بھی امیر دوست دیتے ہوں انہیں دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ تھا، بتاؤ کدھر ہیں، یقیناً پناہ گاہ میں وہ لوگ کھانا کھانے پر مجبور ہیں جو دو برس قبل تک اپنے گھروں میں تھے کیونکہ عمران خان نے لوگوں سے روز گار چھین لیا۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نوکری پیشہ افراد بے روز گار ہوگئے۔

مریم نواز نے کہا کہ کراچی میں سب سے زیادہ جعلی ایم این ایز ہیں، کیا انہوں نے کوئی ترقیاتی کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کارنامہ بی آر ٹی ہے، 120 ارب روپے میں بنایا جبکہ لاہور، ملتان، اسلام آباد، پنڈی میں 4 بی آر ٹی 80 ارب روپے میں فعال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی، گینگ ریپ کے واقعات میں اضافہ ہے، بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ عمران خان کا کارنامہ ہے۔

مریم نواز نے کہا عمران خان کا کارنامہ سقوط کشمیر اور صنعتی شعبوں کی تباہی ہے۔

مریم نواز نے کہا غداری غداری کا کھیل نہ کھلیں اور غیرملکی فنڈنگ کا فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا کیونکہ مقدمے میں عمران خان کا جرم ثابت ہوگیا، میڈیا کو اور کتنا دباؤ میں رکھو گے۔

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘جواب مانگو تو کہتے ہو کہ اپوزیشن مودی کی زبان بولتی ہے، مودی کی کامیابی کی دعائیں مانگوں تم، مودی سے بات کرنے کے لیے مر جاؤ تم، بھارتی جاسوس کے لیے راتوں رات بات کروں تم، سرکاری خرچے سے وکیل ڈھونڈو تم، کشمیر کا مقدمہ ہار جاؤ تم، بھارت کو سلامتی کونسل کے لیے ووٹ دو تم اور مودی کی زبان ہم بول رہے ہیں’۔

مریم نواز نے کہا کہ ‘ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کرے نواز شریف، دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑے نواز شریف، فوج اور سیکیورٹی اداروں کی تنخواہیں بڑھانے والا نواز شریف، دفاعی بجٹ کو بڑھانے والا نواز شریف، جے ایف تھنڈر بنانے والا نواز شریف، موٹر وے بنانے والا نواز شریف، دہشت گردوں کے خلاف دو جنگوں کی قیادت کرنے والا نواز شریف، رد الفساد، سیاچن کے مورچوں میں فوجیوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے نواز شریف ہیں’۔

مریم نواز نے کہا کہ ‘پھر کہتے ہو کہ نواز شریف فوج کے خلاف بات کرتا ہے، جب تم سے تمہاری ناکامیوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جلدی سے جا کر فوج کی وردی کے پیچھے چھپ جاتے ہو’۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘تم فوج کو آلودہ کرتے ہو اور ان پر انگلیاں اٹھانے والوں کو تقویت دیتے ہو’۔

مریم نواز نے کہا کہ ‘فوج کو اپنی ناکام فوج کے لیے استعمال کرتے ہو، کیا فوج عمران خان کی ہے، کیا تحریک انصاف کے ٹھیکیداروں کی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی فوج ہماری ہے، فوج نواز شریف کی ہے، پاکستان کی فوج ہم سب کی ہے، ہاں نواز شریف نے یہ ضرور کیا کہ انہوں نے کرداروں اور اداروں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے، اس نے سپاہیوں، شہدا، پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں، اپنے بیٹوں کو محاذ اور دہشت گردی میں شہید کرنے والوں کو نواز شریف، مریم نواز اور پی ڈی ایم اور پوری قوم سلام پیش کرتی ہے’۔

مریم نواز نے کہا کہ ایک یا دو افراد ادارہ نہیں ہوتے، ایک یا دو افراد ادارے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور جب وہ اداروں کی آڑ لیتے ہیں تو اس پر اداروں کا ناتلافی نقصان ہوتا ہے، اگر ہم آپ کو سلوٹ کرتے ہیں اور کریں گے کیونکہ آپ ہماری فوج ہیں، اگر شہید کو سلوٹ کی بات کرتے ہوتو دونوں ہاتھ سے سیلوٹ کرتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن اگر آپ یہ چاہو کہ عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روند کر آنے والوں کو سلام کرتے ہیں تو یہ ہم سے نہیں ہوگا، جو حکومتیں بناتا ہے، حکومتیں توڑتا ہے، آپ کے ووٹ کی پرچی کو روندتا ہے،منتخب نمائندے کو اقامے اور تنخوا نہ لینے پر وزیراعظم کے منصب سے باہر نکالتا ہے اور عدالتوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور عدالتوں میں ججوں کو ویڈیوز دکھا کر کہتے ہو کہ ہماری پسند کا فیصلہ دو ورنہ تمھاری خیر نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ اس کو ہم نہیں مانتے اور وہ ہمارا ہیرو نہیں ہے، نواز شریف کہتا ہے سیاست میں دخل اندازی نہ کرو عوام کے ووٹ میں دخل نہ دو کیا غلط کہتا ہے، وہ کہتا ہے حکومت کو گرانے کا اختیار عوام کو ہے جو زمین میں اللہ کے نائب ہیں تو کیا وہ غلط کہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کہتا ہے کہ عوامی نمائندوں کی تضحیک مت کرو، وہ کہتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرو تو کہتا ہے کہ سندھ، پنجاب، کراچی کے عوام کی عزت کرو، اگر کہتا ہے کہ اپنے حلف کی پاسداری کرو تو کیا وہ غلط کہتا ہے یہی بات تو قائد اعظم نے بھی کہی تھی، اگر آج زندہ ہوتے تو اس قسم کے لوگ خدانخواسطہ غداری کے فتوے لگاتے کہتے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کہتا ہے کہ میڈیا کو آزاد کرو، پیمرا کو حکم جاری نہ کرو چینلز کو فون نہ کرو کہ تمھارا فلاں بندہ زیادہ حق کی بات کرتا ہے اس کو نوکری سے نکالو۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کراچی کے عوام اور دیگر قائدین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کی وجہ سے کئی برسوں بعد کراچی آئی تو بینظیر بھٹو شہید کی یاد آئی جن سے ایک ملاقات ہوئی تھی جو 3 گھنٹوں پر مشتمل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے کراچی میں جس والہانہ استقبال کیا اور کراچی نے جس طرح جوڑا اس کو پوری زندگی نبھاؤں گی، مجھے آج کراچی اور لاہور کی سڑکوں میں فرق نظر نہیں آیا جس پر میں بہت شکر گزار ہوں۔

مریم نواز نے کہا کہ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی نے کورونا وائرس کا جس طرح مقابلہ کیا اور اقدامات کیے اس پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.