جموں و کشمیر لبریشن سیل اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام یوم الحاق پاکستان کی مناسبت سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

25

جموں و کشمیر لبریشن سیل اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام یوم الحاق پاکستان کی مناسبت سے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا قرارداد الحاق پاکستان اور ہماری زمہ داریاں ۔کانفرنس میں وزیر لبریشن سیل محترمہ امتیاز نسیم ،وزیر بحالیات جاوید اقبال بڈھانوی ،ممبر قومی اسمبلی فتح اللہ کاکا خیل ،سینیٹر دنیش کمار،فیض اللہ فراق ترجمان گلگت بلتستان حکومت ، ،عبداللہ گل ،محمد فاروق رحمانی ،محمود احمد ساغر ،سید فیض نقشبندی ،سید یوسف نسیم ،مشتاق بٹ ،عبدالحمید لون،محترمہ شمیم شال ،محترمہ فرذانہ یعقوب ،ڈائریکٹر لبریشن سیل راجہ خان افسر خان ،سردار نجیب الغفور ،راجہ راشد رضا ،سید ضمیر نقوی ،قاری عمر حماد ،خواجہ عمران الحق سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے وزیر لبریشن سیل محترمہ امتیاز نسیم نے کہا کہ 19 جولائی 1947 تاریخی اہمیت کا حامل دن ہے اسی دن کشمیری اکابرین نے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی خصوصی ہدایت پر جموں وکشمیر لبریشن سیل اور حریت کانفرنس کے زیر اہتمام پورے آزادکشمیر اور پاکستان میں اس اہم دن کے حوالے سے سیمینار ،کانفرنسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنیان المرصوص میں ہماری پاک فوج نے بھارت کو شکست فاش دی اس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور ہم الحاق پاکستان کی منزل حاصل کر کے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر توجہ دے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم رکوانے میں اپنا اہم کردار ادا کرے ،عالمی پاورز کو بھی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلیے اپنا کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ شہداء کشمیر کا خون رائگاں نہیں جائے گا اور کشمیری اپنی منزل الحاق پاکستان حاصل کر کے رہیں گے ۔انہوں نے پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارتی میڈیا کو بھرپور جواب دیا اور maturity کا مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ یوکے میں پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہیں کیونکہ مسلح افواج پاکستان نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا ۔انشاءاللہ مجھے مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر آ رہا ہے ہم الحاق پاکستان کی منزل حاصل کر کے رہیں گے
وزیر حکومت جاوید اقبال بڈھانوی نے کہا کہ آج 19 جولائی ہے آج کے دن غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر قرارداد الحاق پاکستان منظور ہوئی وہ کشمیر کی تاریخ میں ہمیشہ ژندہ رہیں گے یہ ان کی دانشمندی تھی کہ انہوں نے آنے والے حالات کا ادراک کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج کا دن اس عزم کا اعادہ ہے کہ الحاق پاکستان ہو کر رہے گا ،بنگلہ دیش کے موجودہ حالات اور بھارت میں اقلیتوں کو دیکھ کر آج ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیری اکابرین کا فیصلہ درست تھا ،بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم وستم ڈھا رہا ہے دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی ہدایت پر ریاست بھر میں تقریبات ہو رہی ہیں جن کا مقصد پاکستان اور کشمیر کے تعلق کو اجاگر کرنا ہے ۔انہوں نے شہداء کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔قومی اسمبلی کے رکن فتح اللہ کاکا خیل نے کہا کہ کشمیر و پاکستان کا رشتہ لازم و ملزوم ہے ،بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے فرمایا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ،انہوں نے کہا کہ آج کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے اسی دن کشمیری اکابرین نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ۔انہوں نے شہداء کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔اس کانفرنس میں شرکت پر میں حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کا شکر گزار ہوں ،19 جولائی کی قرارداد پیش کرنے اور متفقہ منظور کرنے والے تمام کشمیری اکابرین کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے قیام پاکستان سے پہلے ہی اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا ۔نئی نسل کو یہ تاریخ یاد رکھنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ کہ اقلیتوں کی جانب سے تحریک آزادی کشمیر کو بھرپور مدد حاصل کرے گی ،پاکستان میں کسی قسم کی کوئی مذہبی تفریق نہیں ہے ،بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے جس کی سرپرستی ریاست کر رہی ہے ،مودی کو میرا پیغام ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر چھوڑ دے کیونکہ کشمیری اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کیا آج کے دن بانی صدر سردار ابراہیم خان کے گھر پر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی گئی ،کشمیری بھارت سے آزادی لے کر رہیں گے۔اقوام متحدہ کو کشمیر پر اپنا دہرا معیار ختم کرنا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہیے ۔عبداللہ گل نے کہا کہ آج کی کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے ،انہوں نے حکومت کی تعریف کی کہ وہ ان دنوں کو خاص اہتمام سے مناتی ہے ،پاکستانیت اور کشمیریت کی بنیاد لا الہ الاللہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی سے بھی پہلے کشمیریوں نے سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کی ۔انہوں نے کہا کہ مجاہدین کشمیر نے بھارت کی فوج کو چکرا کر رکھ دیا ہے ،بھارت کشمیر کو نیوٹرل زون بنانا چاہتا ہے ،تاکہ وہ تحریک آزادی سے جان چھڑا لے ۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کو ضم کر دیا جو کسی طور بھی قانونی نہیں ہے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں ہے اور اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے ،سید علی گیلانی نے جو نعرہ لگایا ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے یہ تمام کشمیریوں کے دل کی آواز ہے ۔انشاءاللہ تحریک آزادی کامیابی سے ہم کنار ہو گی ۔ترجمان گلگت بلتستان فیض اللہ فراق نے کہا کہ آج یوم الحاق پاکستان اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق ہو کر رہے گا ،گلگت بلتستان کشمیر کی اکائی ہے ،ہم استحکام پاکستان کی بات کرتے ہیں ،ہم نے بھی آپ کی طرح ڈوگرہ فوج کو گلگت بلتستان سے بھگایا تھا ،یہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج جو ظلم ڈھا رہی ہے اسکی شدید
مذمت کرتے ہیں ،آج بھی کشمیری اپنی identity کی جنگ لڑ رہے ہیں ،آج کے دن بانی صدر آزادکشمیر سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی گئی جس کا مقصد پاکستان کا حصہ بننا تھا جس کی بنیاد لا الہ الااللہ ہے ،آج کے دور میں اس قرارداد کی اہمیت بڑھ گئی ہے بھارت مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے ۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ اس دن کی جموں و کشمیر کی تاریخ میں بڑی اہمیت ہے آج کے دن کشمیریوں نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے قبل خود کو پاکستان سے منسلک کر دیا تھا ہمارے اکابرین نے ہمیں پاکستان کا راستہ دکھا دیا تھا ،گو اس کے لئے جدوجہد طویل ہو گئی ہے مگر وہ دن دور نہیں جب شہداء کشمیر کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور جموں و کشمیر کی ریاست مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بنے گی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کئے ہوے ہے دس لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں شہری آزادیوں کو پامال کئے ہوے ہے اس لئے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی فوج کے ان مظالم کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلیے اپنا اہم کردار ادا کرے ۔انہوں نے بانی صدر آزادکشمیر سردار محمد ابراہیم خان کی جرات کو سلام عقیدت پیش کیا جنہوں نے نامصائب حالات کے باوجود اپنے گھر میں کشمیری اکابرین کا اجلاس بلا کر قرارداد الحاق پاکستان منظور کی ۔ محمود احمد ساغر نے کہا کہ اس دن کی بڑی اہمیت ہے پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا جبکہ کشمیریوں نے 19 جولائی کو اپنا موقف پیش کر دیا ،کشمیرہوں نے بتا دیا کہ تیرہ جولائی کو جو تحریک شہدائے کشمیر سے شروع ہوئی 19 جولائی 1947 اس کی تکمیل کا دن تھا ،اسکے بعد مہاراجہ وادی سے جموں بھاگ گیا اور بھارت سے تانے بانے بنے ۔ہمیں سوچنا ہے کہ 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیر کا فیصلہ کیوں نہ ہو سکا اگر ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان کا فیصلہ ہو سکتا ہے تو فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ کیوں حل نہیں کیا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ نہرو نے 1948 میں کشمیر میں کہا میں جبری رشتے نہیں رکھنا چاہتا کشمیری خود اپنا فیصلہ کریں ۔انہوں نے کہا پہلے ہم نے سیاسی جدوجہد کی مگر پھر 1988 میں ہم نے بھارت کی فوج کے خلاف بندوق اٹھا لی ،کشمیری آج بھی شہادتیں پیش کر رہے ہیں ،جیلیں کاٹ رہے ہیں ،بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ،محترمہ شمیم شال نے کہا کہ آج کے دن کشمیری مسلمانوں نے اپنے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کیا ،آج کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے جس دن بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ آبی گزرگاہ میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان کی محبت میں بڑی قربانیاں دی ہیں ۔محترمہ فرذانہ یعقوب نے کہا کہ آج کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے ،19 جولائی ایک بڑا دن ہے اسی دن کشمیریوں نے پاکستان بننے سے بھی پہلے کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا فیصلہ کیا ۔یہ فیصلہ کو ہمارے بزرگوں نے کہا ایک بہترین فیصلہ تھا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی آزادی کیلیے بے مثال قربانیاں دی ہیں ،انہوں نے شہداء کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ،حریت رہنماؤں کی قربانیاں غیر معمولی ہیں ان سب کو سلام پیش کرتی ہوں انشاءاللہ الحاق پاکستان کی منزل حاصل کر کے رہیں گے ۔مقررین نے قرارداد الحاق پاکستان پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ الحاق تک جموں وکشمیر کے عوام کی تحریک آزادی جاری رہے گی ۔جموں وکشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر راجہ خان افسر خان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب کی نظامت کے فرائض سیکرٹری اطلاعات حریت کانفرنس مشتاق بٹ حریت رہنماء عبدالحمید لون اور لبریشن سیل کے انچارج سوشل میڈیا سردار نجیب الغفور نے انجام دئیے ۔تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عمر حماد نے حاصل کی ۔کانفرنس کے اختتام پر شہداء کشمیر و پاک فوج ،پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اور تحریک آزادی کی کامیابی کیلیے خصوصی دعا کی گئی

Comments are closed.