اگر زمین سونا اگلتی ہو اور اس میں پانی نہ ہو یا اس کا راستہ نہ ہو، تو اسے خریدنا تو دور، اس کے قریب بھی مت جانا
حرف بغاوت — بیرسٹر عمار خوشنود*
یہ جملہ تھا تاجی کھوکھر کا — ایک ایسا شخص جس کے بارے میں ہر کوئی اپنی اپنی رائے رکھتا ہے۔ میری اس سے بمشکل تین یا چار ملاقاتیں ہوئیں اور ہر ملاقات میں اس نے مجھے ایک لائف لیسن دیا۔ چونکہ وہ میرے والد، خوشنود علی خان صاحب، کا بے حد احترام کرتا تھا، اس لیے میں بھی اسے عزت دیتا آیا ہوں — اور دیتا رہوں گا۔
تاجی خوشنود صاحب کو لاکھوں کے ہجوم میں بھی دیکھ لیتا تو ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتا۔ ہر مشکل لمحے میں ان سے مشورہ کرتا اور جہاں ضرورت پڑتی جائز مدد بھی مانگتا، ان کا پیغام کبھی رد نہ کرتا۔ یہی تعلق میری نظر میں اس کی قدر کا پیمانہ تھا۔
ہماری ایک ملاقات جیل میں ہوئی۔ وہ جیل عدالت کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن میں یا تو سمجھ نہیں رہا تھا یا شاید سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا۔ یکدم اس کا لہجہ تلخ ہو گیا، اور اس نے کہا:
*”بیرسٹر صاحب! اگر زمین سونا اگل رہی ہو اور اس میں پانی نہ ہو یا اس کا راستہ نہ ہو، تو اسے خریدنا تو دور، اس کے نزدیک بھی نہ جانا!”*
یہ وہ واحد موقع تھا جب اس نے مجھ سے سختی سے بات کی۔ اور شاید اسی تلخی میں ایک ایسا لائف لیسن دے گیا جو آج قومی سطح پر ہماری بقا کا تقاضا بن چکا ہے۔
آج جب پاکستان موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، پانی کی کمی، اور تباہ حال انفراسٹرکچر سے نبرد آزما ہے، تو تاجی کی وہ بات میرے ذہن میں گونجتی ہے۔ ہم نے سفارتی راستے کھولے، زمینی راستوں پر کام شروع کیا — یہ سب خوش آئند ہے۔ لیکن پانی؟ اس کی طرف کوئی توجہ نہیں۔
ہم ہر سال یا تو پانی کی زیادتی سے تباہ ہوتے ہیں، یا اس کی کمی سے مر جاتے ہیں۔ مونسون میں پانی آتا ہے، املاک اور فصلیں بہا کر سمندر میں جا گرتا ہے، اور باقی سال ہم اس کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔ ہماری ناکامی یہ ہے کہ ہم نے نہ پانی کو سنبھالنے کا نظام بنایا، نہ ڈیمز بنائے، نہ اس کی گزرگاہیں خالی کیں۔
بھارت کا موازنہ کیجیے — وہاں مون سون کی پیش گوئی تک خفیہ رکھی جاتی ہے کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا دار و مدار اس پر ہے۔ وہاں پانی کو “ہارویسٹ” کرنے کی صلاحیت ہے، اور ہم؟ ہم تو پانی کی قدرتی راہوں پر سوسائٹیاں، فارم ہاؤسز اور مارکیٹیں بنا کر اپنی ہی بربادی کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔
چند دن پہلے ایک یورپین مجھ سے گھر کی چھت پر گرنے والے بارش کے پانی کو ہارویسٹ کرنے کی بات کر رہا تھا۔ اس نے چھت سے آنے والے پرنالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھے کہا
*”Water will soon be the new gold.”*
اور واقعی، اگر پانی نیا سونا ہے، تو ہم روزانہ اربوں کا خزانہ سمندر میں بہا رہے ہیں — ایک ایسی معیشت جو شاید پاکستان کی کل معیشت سے کئی گنا زیادہ قیمتی ہو۔
ہم نے کالا باغ ڈیم کو دفن کر دیا، جیسے پانی ہماری ترجیح ہی نہ ہو۔ زرداری صاحب کو فخر سے یہ کہتے سنا کہ انہوں نے یہ منصوبہ بند کرا دیا — حالانکہ پاکستان کی بقا کا انحصار ایسے ہی منصوبوں پر ہے۔ آج ہمیں ہر ممکن مقام پر ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں وہ زمینیں خالی کرنی ہوں گی جن پر پانی کا حق ہے۔ ورنہ یاد رکھیے:
پانی اپنی زمین واپس لے گا — اور آپ کو پانی بھی نہیں دے گا!
یہ کوئی ماحولیاتی، سیاسی یا صرف معاشی مسئلہ نہیں — یہ ہماری قومی بقا کا سوال ہے۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے:
زمین کی قیمت پانی سے کم سمجھی جائے گی، یا ہم واقعی سمجھ چکے ہیں کہ *”واٹر از دا نیو گولڈ”؟*
Comments are closed.